لندن:17ویں صدی کا ایک شاندار پیتل کا اسطرلاب یا جسے آسان زبان میں فلکیاتی کمپیوٹر بھی کہا جا سکتا ہے، برسوں سے انڈیا کے شہر جے پور کے شاہی خاندان کے نجی مجموعے کا حصہ تھا۔ اب یہ ’سپر کمپیوٹر‘ لندن میں سوتھبیز میں نیلامی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ آلہ جے پور کے مہاراجہ سوائی مان سنگھ دوم کے شاہی ذخیرے کا حصہ تھا۔ ان کی وفات کے بعد یہ ان کی اہلیہ مہارانی گایتری دیوی کو ملا جو اپنے عہد کی نہایت باوقار اور مشہور خواتین میں سے ایک تھیں۔ بعد ازاں، ان کی زندگی ہی میں یہ آلہ ایک نجی مجموعے میں چلا گیا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اسطرلاب کئی تہوں پر مشتمل دھات کے بنے ہوئے چپٹے آلات ہوتے ہیں۔ اس کی تہیں آپس میں جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ ماضی میں ان آلات کا استعمال وقت معلوم کرنے، ستاروں کی نقشہ بندی، کعبے کی سمت معلوم کرنے اور آسمان کی گردش جانچنے کے لیے کیا جاتا تھا۔
ان کے مطابق آپ ان آلات کا استعمال کر کے ’غروب اور طلوعِ آفتاب کا وقت، کسی عمارت کی اونچائی، کنویں کی گہرائی، فاصلے کا حساب لگا سکتے ہیں اور یہاں تک کہ ان کی مدد سے مستقبل کی پیشگوئی بھی کی جاتی تھی۔‘
ڈاکٹر گیگانتے کا کہنا ہے کہ ماضی میں ان کی مدد سے زائچے بھی تیار کیے جاتے تھے۔
یہ خاص اسطرلاب 17ویں صدی کے اوائل میں لاہور میں تیار کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں مغلیہ دنیا میں لاہور ان آلات کی تیاری کا ایک نمایاں مرکز بن چکا تھا۔ یہ آلہ دو بھائیوں قائم محمد اور محمد مقیم نے ایک مغل امیر کے لیے تیار کیا۔
ان بھائیوں نے مشترکہ طور پر صرف دو اسطرلاب تیار کیے تھے۔ دوسرا آلہ عراق کے ایک عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ یہ اسطرلاب آقا افضل کے لیے تیار کیا گیا تھا، جو اس دور میں لاہور کے انتظامی امور کے نگران تھے۔
اس آلے کا وزن 8.2 کلوگرام اور اس کا قطر تقریباً 30 سینٹی میٹر ہے جبکہ اونچائی لگ بھگ 46 سینٹی میٹرہے جو 17ویں میں انڈیا میں تیار کیے جانے والے عام اسطرلاب سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔‘
سوتھبیز کے مطابق اس آلے میں 94 شہروں کے نام ان کے طول و عرض البلد کے ساتھ درج ہیں جبکہ 38 ستاروں کی نشاندہی کرنے والے کانٹے نہایت نفیس پھول دار نقش و نگار سے جڑے ہوئے ہیں۔اس کی متوقع قیمت 15 سے 25 لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 20 سے 34 لاکھ ڈالر) کے درمیان لگائی جا رہی ہے۔ یہ رقم پاکستانی کرنسی میں 56 کروڑ سے 94 کروڑ کے درمیان بنتی ہے۔
یہ اسطرلاب 24 سے 29 اپریل تک سوتھبیز کی لندن گیلریوں میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

