واشنگٹن ڈی سی ، مسقط: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو فاکس نیوز کی وائٹ ہاؤس کی نمائندہ عائشہ حسنی کو بتایا ہے کہ امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اب ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کاکہنا تھا کہ ’میں نے انہیں کہا کہ نہیں، آپ کو 18 گھنٹے کی فلائٹ لینے کی ضرورت نہیں، ہمارے پاس سارے کارڈ موجود ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی جب چاہیں امریکا کو کال کر سکتے ہیں۔ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے مزید کہا: ’میں نے اپنے نمائندوں کا ایرانیوں سے ملاقات کے لیے اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ سفر میں بہت زیادہ وقت ضائع ہو رہا تھا اور کام بھی بہت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے علاوہ، ان کی قیادت کے اندر شدید اختلافات اور انتشار ہے۔ انہیں خود بھی نہیں معلوم کہ ان میں سے اصل میں انچارج کون ہے۔‘صدر ٹرمپ نے مزید کہا: ’ہماری پوزیشن بہت مضبوط ہے اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمیں کال کریں۔‘
Very fruitful visit to Pakistan, whose good offices and brotherly efforts to bring back peace to our region we very much value.
Shared Iran’s position concerning workable framework to permanently end the war on Iran. Have yet to see if the U.S. is truly serious about diplomacy.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 25, 2026
دوسری طرف ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے خطے میں قیامِ امن کے لیے پاکستانی قیادت کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد کے دورے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے دورے کو ’انتہائی نتیجہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’ہم خطے میں امن کے لیے پاکستان کے تعاون اور برادرانہ کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے اپنا قابلِ عمل فریم ورک شیئر کر دیا ہے، تاہم اب یہ دیکھنا ہے کہ امریکا سفارت کاری میں کتنا سنجیدہ ہے۔


