لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبہ پنجاب لائیو اسٹاک کی صنعت میں ایک نئے دور کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے گوشت کی عالمی برآمدات بڑھانے کے لیے چینی کمپنی سمیت 7 بڑے اداروں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت پنجاب سے 10 لاکھ جانوروں کا گوشت ایکسپورٹ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ چین کی مشہور ‘گلوبل میٹ کمپنی’ پنجاب میں ‘پامکو’ (PAMCO) کے اشتراک سے جدید ترین بوائلر یونٹس نصب کرے گی۔ ان یونٹس کے ذریعے بڑے پیمانے پر ‘بوائلڈ میٹ’ تیار کر کے برآمد کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر میٹ کمپنیاں ایکسپورٹ کے لیے تیار 3 لاکھ مویشیوں کا گوشت حاصل کریں گی، جبکہ 3 لاکھ بھینسوں و گائے اور 3 لاکھ مینڈھوں کی ‘فیٹنگ’ (Fattening) کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار لائیو اسٹاک سیکٹر کی ‘میکانزیشن’ کی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر عاشق حسین کرمانی نے بتایا کہ حکومت پنجاب کسانوں کو لائیو اسٹاک مشینری (ملک چلر، فیڈ مکسر، ملک کین کولر وغیرہ) کی خریداری پر 60 فیصد تک بھاری سبسڈی فراہم کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے لائیو اسٹاک کی صحت کے لیے تزویراتی فیصلے کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پنجاب کی ہر تحصیل میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ویٹرنری ہسپتال قائم کیا جائے گا۔دور دراز دیہاتوں میں جانوروں کے علاج کے لیے ہر تحصیل میں 4 موبائل ویٹرنری ڈسپنسریاں کام کریں گی۔
ایکسپورٹ کا معیار برقرار رکھنے کے لیے 2 ملین جانوروں کی ٹیگنگ کی جائے گی اور نسل بڑھانے کے لیے 2 ملین سیمنز سبسڈی پر دیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے دیہی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مفت مویشی دینے کا کوٹہ ڈبل کر دیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے 12 اضلاع میں بیوہ اور مطلقہ خواتین کو اب تک 9,255 مویشی مفت دیے جا چکے ہیں، تاکہ وہ معاشی طور پر خود کفیل ہو سکیں۔
اجلاس میں خوش آئند انکشاف کیا گیا کہ 2022 کے بعد پنجاب میں گل گھوٹو اور لمپی سکن کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ مقامی طور پر تیار کردہ موثر ویکسین اب صرف 30 روپے میں دستیاب ہے، جبکہ امپورٹڈ ویکسین کی قیمت 300 روپے ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا”ماضی میں لائیو اسٹاک جیسے اہم شعبے کو نظر انداز کرنا افسوسناک تھا۔ لائیو اسٹاک فارمرز کی معاشی خود انحصاری کا اصل ذریعہ ہے، اور ہم اسے جدید خطوط پر استوار کر کے پنجاب کو گوشت کی ایکسپورٹ کا عالمی مرکز بنائیں گے۔”
اس منصوبے سے نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ دیہی معیشت میں بھی ایک نئی روح پھونک دی جائے گی۔

