لندن/نیویارک: عالمی صرافہ بازار میں مسلسل چار ہفتوں کے اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ جمعہ کے روز سونے کی قیمتیں اگرچہ مستحکم رہیں، تاہم ہفتہ وار بنیادوں پر اس کی قدر میں تقریباً 3 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ ہوش رُبا اضافے نے عالمی سطح پر مہنگائی کے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹیں ہیں۔ تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹیشن اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جو مرکزی بینکوں کو شرحِ سود بلند رکھنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق، جب شرحِ سود میں اضافے کا امکان ہوتا ہے تو سونے کی کشش کم ہو جاتی ہے، کیونکہ سونا ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جس پر کوئی مقررہ منافع (Yield) نہیں ملتا۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور ٹریژری ییلڈز میں اضافے نے بھی سونے کی قیمت پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔
اسپاٹ گولڈ: 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 4,686.29 ڈالر فی اونس۔
امریکی گولڈ فیوچرز: 0.5 فیصد گراوٹ کے بعد 4,702 ڈالر پر آگئے۔
خام تیل (Brent): ہفتہ وار 17 فیصد اضافے کے ساتھ 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سونے کی قیمتیں اس وقت ایک مخصوص حد (Range) میں مقید ہیں، جس میں اوپر کی مزاحمتی سطح 4,900 ڈالر اور نچلی سپورٹ سطح 4,645 ڈالر ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل اور علاقائی کشیدگی وہ اہم عوامل ہیں جو آنے والے دنوں میں سونے کی سمت کا تعین کریں گے۔
دیگر دھاتوں میں بھی معمولی مندی دیکھی گئی، جہاں چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

