تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

سامنا کرنا پڑا یہ ایک انتظامی بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں بلکہ نظامِ حکمرانی میں احتساب اور اصلاح کے ایک قابلِ تقلید ماڈل کی عملی شکل ہے۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کی نگرانی پولیس انٹیلی جنس کے سپرد کرنا ایک اسٹریٹجک فیصلہ ثابت ہوا، جس نے روایتی بیوروکریٹک نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔ یونٹ نے تحصیل اور ضلعی سطح پر نہ صرف ایس او پیز پر عملدرآمد کی نگرانی کی بلکہ ہر خلاف ورزی کو فوری، مستند اور قابلِ تصدیق شواہد کے ساتھ رپورٹ بھی کیا۔ اہم تبدیلی اس وقت دیکھنے میں آئی جب انتظامی افسران، جو ماضی میں دفاتر تک محدود رہ کر کاغذی نظام چلاتے تھے، خود فیلڈ میں متحرک ہوئے۔ اپنی پیشہ ورانہ ساکھ اور عہدوں کو بچانے کے لیے انہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن پر سختی سے عملدرآمد کروانا شروع کیا۔ خلاف ورزی کے مرتکب شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس، شادی ہالز اور دکانوں کے خلاف نہ صرف کارروائیاں کی گئیں بلکہ سیلنگ اور جرمانوں کا سلسلہ بھی تیز کیا گیا۔ یوں وہ رویہ، جس میں بظاہر شٹر ڈاؤن کر کے اندرونی سرگرمیاں جاری رکھی جاتی تھیں، بڑی حد تک ختم ہوتا دکھائی دیا۔ حکومتی ہدایات کے مطابق مارکیٹوں کو رات 8 بجے اور ریسٹورنٹس و شادی ہالز کو 10 بجے بند ہونا تھا، مگر ابتدائی طور پر متعدد اضلاع میں ان احکامات پر مکمل عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اس میں انتظامی کمزوری، مبینہ مالی مفادات اور فیلڈ لیول پر نگرانی کے فقدان جیسے عوامل شامل تھے۔ تاہم فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب پولیس انٹیلی جنس نے محض ایک گھنٹے کے اندر اندر ویڈیوز اور تصاویر پر مبنی جامع رپورٹس وزیر اعلیٰ آفس تک پہنچانا شروع کر دیں۔
یہ برق رفتاری اور شواہد پر مبنی رپورٹنگ جدید گورننس کے اس ماڈل کی عکاس ہے جس میں انٹیلی جنس بیسڈ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا فیصلہ سازی کا بنیادی جزو بن جاتے ہیں۔ ماضی کے برعکس، جب رپورٹس اگلے روز تک موصول ہوتی تھیں، اب فوری معلومات کی دستیابی نے نہ صرف شفافیت کو فروغ دیا بلکہ حکومتی احکامات کے مؤثر نفاذ کو بھی یقینی بنایا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا اس پیش رفت پر اطمینان اور متعلقہ افسران کی حوصلہ افزائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اب کارکردگی کا معیار محض کاغذی دعووں سے نہیں بلکہ عملی نتائج سے طے ہوگا۔ 99 فیصد عملدرآمد کی شرح اس مربوط نظام کی افادیت کا واضح ثبوت ہے، جہاں ٹیکنالوجی، نگرانی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی یکجا ہو کر ٹھوس نتائج پیدا کرتی ہے۔ دوسری جانب بیوروکریسی کو جاری کی گئی وارننگ اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ آئندہ کے لیے رسمی رپورٹنگ اور زمینی حقیقت سے انحراف ناقابلِ قبول ہوگا۔
پولیس انٹیلی جنس یونٹ کی یہ کارکردگی ایک کامیاب آپریشن کے طور پر سامنے آئی ہے، جس نے نہ صرف حکومتی احکامات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا بلکہ گورننس میں جوابدہی، شفافیت اور فوری ردعمل کے کلچر کو بھی مضبوط کیا۔ مزید اہم یہ کہ یہ ماڈل پیشہ ورانہ خودمختاری کے ساتھ فعال دکھائی دیتا ہے، جس پر اعتماد کرتے ہوئے مزید ذمہ داریاں بھی تفویض کی جا رہی ہیں۔ اگر اس ماڈل کو ادارہ جاتی سطح پر مستقل بنیادوں پر اپنایا جائے تو یہ صرف سمارٹ لاک ڈاؤن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دیگر انتظامی شعبوں میں بھی اصلاحات کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کامیابی کو وقتی کارکردگی کے بجائے ایک جامع پالیسی فریم ورک کا حصہ بنایا جائے، تاکہ پنجاب میں گورننس کا نظام حقیقی معنوں میں ڈیٹا پر مبنی، شفاف اور جوابدہ بن سکے۔
بیوروکریسی کا “سب اچھا” بیانیہ دفن ایک گھنٹے کی رپورٹنگ نے سسٹم ہلا دیا، مریم نواز کی سرزنش،پولیس انٹیلی جنس چیف کو شاباش

