شریوپورٹ:امریکی ریاست لوئیزیانا میں پولیس نے بتایا کہ ایک شخص نے اتوار کی صبح گھریلو تشدد کے واقعے میں آٹھ بچوں کو گولی مار کر قتل کر دیا، جن میں سے سات اس کے اپنے بچے تھے۔
گن وائلنس آرکائیو کے اعداد و شمار کے مطابق شریوپورٹ شہر میں ایک گھر میں ہونے والا یہ صبح سویرے قتل عام گذشتہ دو برس سے زائد عرصے میں امریکہ میں ہونے والی مہلک ترین اجتماعی فائرنگ تھی۔
دو خواتین بھی فائرنگ سے شدید زخمی ہوئیں، جن میں بچوں کی والدہ بھی شامل ہیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنے بچے ان کے تھے۔
پولیس نے حملہ آور کی شناخت 31 سالہ شمر ایلکنز کے نام سے کی۔ وہ فائرنگ کے بعد ایک چھینی گئی گاڑی میں فرار ہو گیا۔ تاہم پولیس نے تعاقب کرنے کے بعد اسے گولی مار دی۔
پولیس کے کارپورل کرس بورڈی لون نے صحافیوں کو بتایا ’تعاقب کے اختتام پر ملزم گاڑی سے اسلحہ لے کر باہر نکلا، جس پر ہمارے افسران کو مجبوراً اسے غیر مؤثر بنانا پڑا۔‘
دو منزلہ چھوٹے گھر کے سفید دروازے پر گولیوں کے پانچ سوراخ واضح تھے جبکہ قریب ہی ہمدردی کے طور پر پھولوں کے کئی گلدستے رکھے گئے تھے۔
بورڈی لون کے مطابق مرنے ہونے والے بچوں کی عمریں تقریباً ڈیڑھ سے 12 سال تک تھیں اور آٹھ میں سے سات بچے حملہ آور کے اپنے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس ابھی بھی واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے اور تین گھروں پر مشتمل جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے واقعے کو ’گھریلو جھگڑا‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’ہمیں یقین ہے فائرنگ کرنے والا واحد شخص یہی تھا۔‘
لوئیزیانا، نشئی کی اندھادھند فائرنگ، بیوی زخمی ، اپنے سات بچوں سمیت 8 ہلاک

