ملتان / سوشل میڈیا: کیا مفتی عبدالقوی نے اپنی "روحانیت” کی تشہیر کے لیے نائٹ کلب کا انتخاب کر لیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو اس وقت ہر سوشل میڈیا صارف کی زبان پر ہے۔ وائرل ہونے والی ایک مبینہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مفتی صاحب اپنے مخصوص روایتی لباس، جبہ اور ٹوپی میں ایک ‘ریو میوزک پارٹی’ (Rave Party) میں موجود ہیں، جہاں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی اور لوگ ڈی جے کی دھنوں پر رقص میں مگن ہیں۔
وائرل کلپ میں مفتی عبدالقوی کو ایک نائٹ کلب جیسے ماحول میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں تیز روشنیاں، اونچی موسیقی اور رقص و سرور کی محفل جمی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مفتی صاحب اس تمام تر "شور شرابے” کے درمیان نہایت اطمینان سے موجود نظر آ رہے ہیں، گویا وہ اس ماحول کا حصہ ہوں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ مفتی صاحب نے اپنی حرکات سے عوامی غم و غصے یا حیرت کو دعوت دی ہو۔ ان کا "سکینڈل میٹر” کافی بھرا ہوا ہے۔ مرحومہ قندیل بلوچ کے ساتھ متنازع سیلفیز اور ویڈیوزنے بھی کافی تہلکہ مچایا تھا کہ جبکہ حریم شاہ مشہور ٹک ٹاکر کے ہاتھوں تھپڑ کھانے اور ہوٹل کے کمروں کی ویڈیوز تو ابھی کل کی بات ہے اسی طرح نکاح اور دیگر مذہبی معاملات پر ان کے غیر روایتی بیانات اکثر تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔
ویڈیو سامنے آتے ہی ٹوئٹر (X) اور فیس بک پر تبصروں کا ایک سیلاب آ گیا ہے۔ صارفین نے مفتی صاحب کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان کی خوب ٹرولنگ کی ہے۔
سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ "قندیل بلوچ سچ کہتی تھی، مفتی صاحب کی منزل کچھ اور ہی ہے۔”
"جبکہ ایک نے کمنٹ کیا کہ ”لگتا ہے مفتی صاحب اپنا ‘جنت کا ویزا’ خود ہی کینسل کروانے پر تلے ہوئے ہیں۔”
” ایک اور سوشل میڈیا کے صارف کا اعتراض تھا کہ یہ کون سا تبلیغی دورہ ہے جس میں ڈی جے اور تیز موسیقی لازمی ہے؟”
ابھی تک مفتی عبدالقوی کی جانب سے اس ویڈیو پر کوئی باضابطہ صفائی یا بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، ان کے چاہنے والے (اور ناقدین بھی) اس بات کے منتظر ہیں کہ اس بار وہ اس "ناچ گانے” کی محفل میں موجودگی کا کیا جواز پیش کرتے ہیں۔ کیا یہ کوئی "تحقیقی دورہ” تھا یا محض اتفاق؟ یہ تو مفتی صاحب ہی بتا سکتے ہیں۔

