تہران: ایران نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حق میں ہے، لیکن یہ بات چیت کسی دباؤ یا اصولوں پر سمجھوتے کے تحت نہیں ہوگی۔
ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں سیاسی تناؤ کی حالیہ لہر کے دوران، ایرانی چیف مذاکرات کار اور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قاليباف نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک "دشمن پر بھروسہ نہیں کرتا کیونکہ وہ کسی بھی لمحے جنگ کو تیز کر سکتا ہے”۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران "مذاکرات کر رہا ہے لیکن وہ ضروری اقدامات کرنے کے لیے بھی تیار ہے”، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ حسبِ روایت ایرانی ذرائع ابلاغ نے آج پیر کو یہ رپورٹ جاری کی ہے۔
دوسریی طرف ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے اصول سے خوف محسوس نہیں کیا اور وہ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
ابراہیم عزیزی نے امریکی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا کہ”امریکا کو چاہیے کہ وہ ایران کی جانب سے مقرر کردہ ‘ریڈ لائنز’ (سرخ لکیروں) کا مکمل احترام کرے۔ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ فریقِ ثانی ایران کے قومی مفادات اور خود مختاری کو تسلیم کرے۔”
ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایران کا موقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے اور وہ سفارت کاری کے دروازے بند کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ مذاکرات کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایران اپنے دفاعی یا ایٹمی پروگرام پر کسی قسم کا دباؤ قبول کرے گا۔

