اوٹاوا/یروشلم : کینیڈا کی معروف سیاسی رہنما اور ممبر پارلیمنٹ الزبتھ مے (Elizabeth May) نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر خاموشی توڑتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو براہِ راست عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔
ان کے اس بے باک بیان نے جہاں دنیا بھر میں مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو حوصلہ دیا ہے، وہی سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کینیڈین پارلیمنٹ میں اپنے حالیہ خطاب اور سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں الزبتھ مے نے کسی لگی لپٹی کے بغیر کہا:
”ہم سب جانتے ہیں کہ امن کا دشمن کون ہے، اور بدقسمتی سے اس کا ایک نام ہے، اور وہ نام بینجمن نیتن یاہو ہے۔ وہ شخص جو خطے کو مسلسل آگ اور خون کے کھیل میں دھکیل رہا ہے، وہی دراصل امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔“
الزبتھ مے، جو کہ کینیڈا کی گرین پارٹی کی سابق سربراہ ہیں، طویل عرصے سے انسانی حقوق اور بین الاقوامی انصاف کی حامی رہی ہیں۔ ان کی جانب سے نیتن یاہو کو "امن کا دشمن” قرار دینا درج ذیل وجوہات کی بنا پر اہم سمجھا جا رہا ہے:
مغربی ممالک میں جہاں اسرائیل پر تنقید کو عموماً دبا دیا جاتا ہے، وہاں الزبتھ مے نے اپنی سیاسی ساکھ داؤ پر لگا کر سچ کا ساتھ دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ غزہ اور اب ایران کے خلاف نیتن یاہو کے جارحانہ عزائم صرف دفاع نہیں بلکہ ایک منظم تباہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دنیا کب تک ایک شخص کی انا اور سیاسی بقا کے لیے معصوموں کا خون بہتا دیکھے گی؟
”امن کے دشمن کا ایک نام ہے، اور وہ نیتن یاہو ہے“: کینیڈین لیڈر الزبتھ مے کی اسرائیلی وزیراعظم پر شدید تنقید؛

