واشنگٹن (نیوز ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اپنی اٹارنی جنرل پیم بونڈی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس اچانک فیصلے کی وجہ بونڈی کی کارکردگی پر صدر کی بڑھتی ہوئی ناراضگی اور اہم ترین قانونی معاملات میں ناکامی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پیم بونڈی کی برطرفی کے پیچھے دو بڑے عوامل کارفرما ہیں:
ایپسٹین اسکینڈل: بونڈی پر الزام ہے کہ انہوں نے بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق حساس فائلوں کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے میں کوتاہی برتی۔ دستاویزات کی اشاعت میں بے ضابطگیوں اور اہم معلومات چھپانے کے الزامات نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر دی تھیں۔
سیاسی مخالفین پر نرمی: صدر ٹرمپ اس بات پر بھی سخت ناخوش تھے کہ بونڈی ان کے سیاسی حریفوں اور ناقدین کے خلاف قانونی کارروائیوں کو مطلوبہ تیزی سے آگے نہیں بڑھا رہی تھیں۔
محکمہ انصاف کی ساکھ پر سوالات
پیم بونڈی کے دورِ ملازمت میں محکمہ انصاف کی خودمختاری پر مسلسل انگلیاں اٹھتی رہیں۔ ناقدین کا الزام ہے کہ انہوں نے ان تجربہ کار پراسیکیوٹرز کو عہدوں سے ہٹا دیا جو ٹرمپ کے خلاف تحقیقات کر رہے تھے، جس سے محکمے کی غیر جانبداری مشکوک ہو گئی۔ دوسری جانب بونڈی کا موقف رہا ہے کہ انہوں نے ایپسٹین فائلز کے معاملے میں سابقہ حکومتوں سے زیادہ شفافیت دکھائی۔
انتظامیہ میں تبدیلیوں کی لہر
پیم بونڈی کی رخصتی ٹرمپ انتظامیہ میں ہونے والی اکھاڑ پچھاڑ کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل 5 مارچ کو کرسٹی نوئم کو بھی فارغ کیا جا چکا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صدر ٹرمپ اب اپنی ٹیم میں صرف ان لوگوں کو دیکھنا چاہتے ہیں جو ان کے ایجنڈے پر سو فیصد عملدرآمد کریں۔
پیم بونڈی کی مشکلات یہاں ختم نہیں ہوئیں، پارلیمانی کمیٹی نے انہیں 14 اپریل کو طلب کر لیا ہے جہاں انہیں ایپسٹین دستاویزات اور دیگر معاملات پر گواہی دینی ہوگی۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اب محکمہ انصاف میں کسی ایسے شخص کو لایا جائے گا جو ٹرمپ کے مخالفین کے خلاف سخت گیر قانونی کارروائیوں کا آغاز کر سکے۔
ایپسٹین فائلز کا ایک اور شکار،صدر ٹرمپ کی وفادار اٹارنی جنرل پیم بونڈی بھی عہدے سے فارغ

