حیدرآباد :بھارت کی جنوبی ریاست تلنگانہ(حیدر آباد) میں ریاستی اسمبلی نے ایک قانون کو منظوری دی ہے جس کے تحت ایسے تمام ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہوں سے 15 فیصد کٹوتی کی جائے گی جو خود اپنے والدین کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم والدین کو فراہم کی جائے گی۔
اس قانون کا اطلاق سرکاری اور غیر سرکاری کمپنیوں میں کام کرنے والے ایسے تمام مرد و خواتین پر ہو گا جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ماں، باپ کا خیال نہیں رکھ رہے۔ قانون کے مطابق بچوں کی تنخواہوں کی کاٹی جانے والی رقم والدین کو اپنی دیکھ بھال اور اخراجات پورے کرنے کے لیے ادا کی جائے گی۔
گذشتہ اتوار کو ریاستی اسمبلی میں منظور کیے گئے اس قانون میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام افراد کی تنخواہ کا 15 فیصد یا (زیادہ سے زیادہ) دس ہزار روپے ماہانہ اُن کے والدین کی دیکھ بھال کے لیے اُن کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے گا۔
اس قانون کے دائرے میں سرکاری اور نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے سبھی ملازمین شامل ہوں گے۔ اس کا اطلاق صرف عام لوگوں پر ہی نہیں بلکہ اراکین پارلیمان اور اراکینِ اسمبلی پر بھی ہو گا۔
والدین کے معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے اس قانون کے تحت یہ طے کیا گیا ہے کہ ایسے والدین جنھیں سہارے کی ضرورت ہے اور جن کے بچے اُن کا بڑھاپے میں خیال نہیں رکھ پا رہے ہیں، وہ اپنے علاقے کے کلکٹر آفس میں اپنے بچوں کے خلاف شکایات درج کروا سکتے ہیں۔
کلکٹر آفس والدین اور بچوں کو طلب کر کے کیس کی شنوائی کرے گا۔ شکایت کنندہ والدین کو اس موقع پر اپنی پوری آمدن کی تفصیل بھی جمع کروانی ہو گی۔
قانون کے مطابق کلکٹر آفس کو شکایت موصول ہونے کے دو ماہ کے اندر اس پر فیصلہ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
والدین کا خیال نہ رکھنے والی اولاد کی 15 فیصد تنخواہ کٹے گی، قانون منظور، اطلاق سرکاری غیر سرکاری سب اداروں پر ہوگا

