واشنگٹن :پینٹاگون کی جانب سے ایرانی جوہری مواد (پلوٹونیم) کو قبضے میں لینے کے لیے زمینی فوج اتارنے کی منصوبہ بندی کی خبروں نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف صدر ٹرمپ "کارروائیاں سمیٹنے” کی بات کر رہے ہیں، تو دوسری طرف پسِ پردہ ایک بڑے زمینی حملے کی فائلیں تیار کی جا رہی ہیں۔
سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے سینیئر اہلکار اس طرح کی کارروائی کی منصوبہ بندی کے لیے درخواستیں کر رہے ہیں۔
سی بی ایس نے دو عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ اگر امریکا فوجی ایران میں داخل ہوتے ہیں تو وہ ایرانی فوجیوں کو کیسے حراست میں رکھیں گے۔
جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ جنگ بندی نہیں چاہتے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قبل ازیں صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ ’کہیں بھی زمینی دستے‘ بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر میرا ارادہ ہوتا بھی تو یقیناً آپ کو نہ بتاتا۔
محکمہ دفاع نے اس فوجی نقل و حرکت کے بارے میں بی بی سی کی درخواست پر تاحال تبصرہ نہیں کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار امریکی سینٹرل کمانڈ نے ممکنہ فوجی نقل و حرکت کے بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا ہے۔
بی بی سی کے امریکا میں پارٹنر سی بی ایس نیوز کو متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری مواد کو محفوظ بنانے یا اسے قبضے لینے کے مختلف طریقوں پر کام کر رہی ہے۔
دو ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اس کام کے لیے جوائنٹ سپیشل آپریشنز کمانڈ کو استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایلیٹ ملٹری یونٹ ہے جسے اکثر انتہائی حساس آپریشنز کا کام سونپا جاتا ہے۔
ایک اور ذریعے نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک ایسی کسی کارروائی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے سی بی ایس کو بتایا کہ تیاریاں کرنا پینٹاگون کا کام ہے۔
خیال رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے آغاز کے بعد سے بارہا ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
امریکا اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایران جوہری بم تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی ایران سختی سے تردید کرتا ہے۔

