واشنگٹن / لندن : مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں امریکا کو پہنچنے والے نقصانات کی نئی اور ہوش رُبا تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ بی بی سی اور ‘سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز’ (CSIS) کی رپورٹ کے مطابق، محض دو ہفتوں کی لڑائی میں ایران نے امریکی فوجی تنصیبات کو 80 کروڑ ڈالر (تقریباً 60 کروڑ پاؤنڈ) کا بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
تیل کی قیمتیں اور امریکی یوٹرن
عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد، امریکی محکمہ خزانہ نے ایک غیر متوقع فیصلہ کرتے ہوئے سمندر میں موجود ایرانی تیل پر سے پابندیاں عارضی طور پر ہٹا دی ہیں۔ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے مطابق، اس ‘مختصر مدت کی اجازت’ کا مقصد عالمی منڈی میں 14 کروڑ بیرل تیل فراہم کرنا ہے تاکہ قیمتوں کو نیچے لایا جا سکے۔ انہوں نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہم قیمت کم رکھنے کے لیے تہران کے خلاف ایرانی تیل ہی استعمال کریں گے۔”
امریکی دفاعی حصار میں بڑے سوراخ
رپورٹ کے مطابق، ایران نے انتہائی درستگی کے ساتھ اردن، کویت، قطر اور سعودی عرب میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
تھاد (THAAD) سب سے بڑا دھچکا اردن میں لگا جہاں ایران نے 48 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کے جدید ترین ریڈار سسٹم (AN/TPY-2) کو تباہ کر دیا۔
سیٹیلائیٹ تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ ایران نے روس کی فراہم کردہ انٹیلی جنس کی مدد سے مخصوص امریکی اثاثوں کو بار بار ٹارگٹ کیا، جس سے فوجی ڈھانچے کو 31 کروڑ ڈالر کا اضافی نقصان پہنچا۔
نقصان اتنا شدید تھا کہ امریکا کو ہنگامی طور پر جنوبی کوریا سے ‘تھاد’ کے پرزے مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا پڑے۔
28 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 3,200 افراد (بشمول 1,400 شہری) اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مالی طور پر یہ جنگ امریکا کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہو رہی ہے؛ جنگ کے پہلے 6 دنوں میں 11.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جو محض 12ویں دن تک بڑھ کر 16.5 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔
امریکی فوجی اڈوں کو 80 کروڑ ڈالر کا نقصان، تیل کی قیمتیں گرانے کے لیے ایرانی تیل پر سے پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ!

