واشنگٹن :ایران کے خلاف جنگ کے 20 ویں دن ایک ایسا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس نے وائٹ ہاؤس کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی کہ "ایران خفیہ طور پر ایٹمی بم بنا رہا تھا”، خود ان کے اپنے ہی مقرر کردہ اعلیٰ حکام اور عالمی ماہرین نے قلعی کھول دی ہے۔
اسرائیل و امریکا کے ذریعہ ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے 20 دن بعد امریکا کے ایک بڑے جھوٹ سے پردہ اٹھ گیا ہے۔ ایران پر حملہ کے وقت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پوری دنیا کے سامنے جھوٹ بولا تھا، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران 2025 میں ہونے والے حملہ کے بعد بھی جوہری بم تیار کر رہا تھا۔ اگر اس پر حملہ نہ کیا جاتا تو پورا مشرق وسطیٰ تباہ ہو جاتا۔
اب دنیا کے 5 اعلیٰ عہدیداروں، جو ایران کے جوہری معاملوں سے براہ راست جڑے ہوئے تھے، نے ٹرمپ کے اس بیان کو غلط قرار دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے یہ اعلیٰ عہدیدار خود ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ ہیں۔
1. تلسی گبارڈ:
امریکی خفیہ ایجنسی کی سربراہ تلسی گبارڈ نے بدھ (18 مارچ) کو سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے گواہی دی۔ انہوں نے کہا کہ جون 2025 میں ہونے والے حملہ سے ایران کا جوہری پروگرام تباہ ہو گیا تھا اور اس کے بعد ایران نے جوہری اسلحہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس بیان پر سینیٹ میں ہنگامہ مچ گیا اور کئی اراکین نے سوال اٹھایا کہ یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائی گئی؟
2. بدر بن حمد البوسعیدی:
عمان کے وزیر خارجہ، جو امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے، نے ’دی اکونومسٹ‘ میں لکھے ایک مضمون میں دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا چکا تھا۔ ایران یورینیم افزودگی کم کرنے کے لیے تیار تھا، لیکن اسرائیل کے کہنے پر امریکا نے حملہ کر دیا۔ ان کے مطابق ٹرمپ کا امریکی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کمزور ہو چکا ہے۔
3. رافیل گروسی:
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے بھی جنگ کے دوران بیان دیا کہ ایران اس وقت جوہری اسلحہ بنانے کے کسی فعال پروگرام میں شامل نہیں تھا اور نہ ہی فوری طور پر بم بنانے کی پوزیشن میں تھا۔
4. جوناتھن پاول:
برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر، جو ایران-امریکا معاہدے میں شامل تھے، کے مطابق مذاکرات کے آخری مرحلہ میں بتایا گیا تھا کہ جلد ہی معاہدہ ممکن ہے اور ایران یورینیم ہٹانے پر تیار ہے۔ لیکن صرف 2 دن بعد امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کر دیا، جس سے وہ حیران رہ گئے۔
5. جوئے کینٹ:
سینئر امریکی خفیہ افسر جوئے کینٹ نے ایران جنگ کی مخالفت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنے استعفیٰ نامہ میں لکھا کہ اس وقت ایران سے امریکا کو کوئی فوری خطرہ نہیں تھا اور صدر نے اسرائیل کے دباؤ میں آ کر حملہ کیا۔ یہ استعفیٰ امریکا میں بڑی بحث کا سبب بن گیا، کیونکہ کینٹ کی تقرری خود ٹرمپ نے کی تھی۔
"جنگ کا جواز ہی جھوٹ نکلا”:جوئے کینٹ کا استعفیٰ اور تلسی گبارڈ کی گواہی: کیا ڈونلڈ ٹرمپ کو مواخذے (Impeachment) کا سامنا کرنا پڑے گا؟

