تہران :ایران کے نومنتخب سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے گزشتہ چند گھنٹوں سے جاری غیر یقینی کی صورتحال ختم ہو گئی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے بیٹے اور سرکاری مشیر یوسف پیزشکیان نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ رہبرِ معظم مکمل طور پر محفوظ اور صحت مند ہیں۔
عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ دعوے کیے جا رہے تھے کہ اسرائیل اور امریکا کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہو گئے ہیں۔ ان افواہوں کو اس وقت تقویت ملی جب ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے انہیں ’رمضان جنگ‘ کا ایک زخمی مجاہد قرار دیا۔
یوسف پیزشکیان نے اپنے ’ٹیلی گرام‘ چینل پر جاری پیغام میں کہا کہ انہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے براہِ راست قریبی حلقوں سے رابطہ کیا ہے جنہوں نے ان کے زخمی ہونے کی تمام خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے انجام دے رہے ہیں اور انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔
یادرہےامریکی اخبار "نیویارک ٹائمز” نے آج بدھ کی صبح رپورٹ دی ہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے صاحب زادے مجتبیٰ خامنہ ای، جنہیں رواں ہفتے با ضابطہ طور پر ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے، جنگ کے پہلے دن زخمی ہو گئے تھے۔ ان کی دونوں پنڈلیوں میں زخم آئے تاہم زخموں کی نوعیت کے بارے میں ابھی معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

