تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) روسی صدر پوتن کا ایرانی ہم منصب کو فون، خامنہ ای کی شہادت پراظہار تعزیت کیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک اہم ویڈیو پیغام کے ذریعے پڑوسی ممالک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران ان کے خلاف جارحیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اس خطاب میں صدر نے علاقائی تعاون اور امن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے پڑوسی ممالک سے معذرت کی اور کہا:
"ہم کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ہمارا مقصد خطے میں امن اور سکون قائم کرنا ہے، جس کے لیے تمام علاقائی ممالک کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔”
ایرانی صدر نے انکشاف کیا کہ ملکی قیادت کی جانب سے مسلح افواج کو نئی اور واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ان ہدایات کے مطابق:اب سے کسی بھی پڑوسی ملک کی سرزمین یا اثاثوں پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ پالیسی صرف اس صورت میں تبدیل ہوگی جب کسی پڑوسی ملک کی طرف سے ایران پر "پہلے حملہ” کیا جائے۔
ایران اب "پہل نہ کرنے” (No First Strike) کی پالیسی پر سختی سے کاربند رہے گا۔
قب ازیں روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فون پر بات کی اور آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا۔روسی وزارت خارجہ کے مطابق انہوں نے دشمنی کے فوری خاتمے کے بارے میں روس کے موقف کو دہرایا اور کہا کہ وہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ "ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران ولادیمیر پوتن نے ایک بار پھر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای، ان کے خاندان کے افراد اور ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت کی ہلاکت پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور ساتھ ہی ساتھ امریکی حملے میں بہت سے شہریوں کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا۔”
پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ "ولادیمیر پوتن نے دشمنی کے فوری خاتمے کے حق میں روس کے اصولی موقف کا اعادہ کیا، ایران سے متعلق یا مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے، اور فوری طور پر سفارتی حل کے راستے پر واپس آنے کی تجویز کی”۔
امن کی پیشکش کے ساتھ ساتھ صدر پزشکیان نے ایک سخت انتباہ بھی جاری کیا۔ انہوں نے پڑوسی ریاستوں کو خبردار کیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے جنگی عزائم کا آلہ کار نہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا:”جو قوتیں اس نازک موقع کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں، انہیں ‘سامراجیت کی کٹھ پتلی’ نہیں بننا چاہیے۔ اسرائیل یا امریکہ کی حمایت کسی بھی صورت میں عزت اور آزادی کا راستہ نہیں ہو سکتی۔”
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسعود پزشکیان کا یہ بیان دراصل ان عرب ممالک کو مطمئن کرنے کی کوشش ہے جنہیں خدشہ تھا کہ ایران اپنے خلاف ہونے والے حملوں کا بدلہ ان ممالک سے لے سکتا ہے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔ اس پیغام کے ذریعے تہران نے گیند پڑوسیوں کے کورٹ میں ڈال دی ہے کہ اگر وہ غیر جانبدار رہتے ہیں تو ایران کی طرف سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

