واشنگٹن :امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی صدر ٹرمپ کی حمایت کی اور ان کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد مسترد کر دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سینیٹ کے ریپبلکنز نے بدھ کے روز دو پارٹیوں کی مشترکہ قرارداد کو روکنے کے لیے ووٹ دیا جس میں ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی قرار دینے اور فضائی حملے ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔سینیٹ نے قرارداد کو آگے بڑھانے سے روکنے کے لیے 53 کے مقابلے میں 47 ووٹ دیے۔ تمام ریپبلکنز میں سے صرف ایک نے ووٹ دیا جبکہ تمام ڈیموکریٹس میں سے صرف ایک نے مخالفت کی۔
’وار پاورز ریزولوشن‘ کو اس کے حامیوں نے کانگریس کے اعلانِ جنگ کرنے کے اختیار کو واپس لینے کی کوشش قرار دیا جیسا کہ امریکی آئین میں لکھا ہے۔
مخالفین نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کا اقدام قانونی ہے اور انہیں بطور کمانڈر ان چیف محدود حملے کرنے کا حق حاصل ہے تاکہ امریکہ کی حفاظت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد کے حامی امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ریپبلکن سینیٹر جم رِش، جو ایڈاہو سے ہیں اور سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین ہیں، نے کہا کہ ’یہ ہمیشہ کے لیے جنگ نہیں ہے، یہ بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔‘
یہ توقع نہیں کی جا رہی تھی کہ یہ قرارداد کامیاب ہوگی۔ امریکی صدر کے ساتھی ریپبلکنز سینیٹ اور ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیوز میں معمولی اکثریت رکھتے ہیں اور انہوں نے پہلے بھی صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے والی قراردادیں روک دی تھیں۔
ایران پر حملے: امریکی سینیٹ صدر ٹرمپ کے ساتھ، اختیارات محدود کرنے کی قرارداد مسترد

