واشنگٹن/نیویارک: امریکہ سے موصول ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار نے عالمی سیاسی منظر نامے پر ایک نیا دھماکہ کر دیا ہے۔ دہائیوں سے اسرائیل کے مضبوط ترین اتحادی سمجھے جانے والے ملک امریکہ میں عوامی رائے عامہ تیزی سے بدل رہی ہے، جہاں اب پہلی بار فلسطین کے حق میں ہمدردی کا گراف اسرائیل سے تجاوز کر گیا ہے۔
حالیہ سروے کے نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی عوام اب حقائق کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہے ہیں:
فلسطین کے حق میں ہمدردی رکھنے والے امریکیوں کی شرح بڑھ کر 41 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اسرائیل کے حق میں روایتی ہمدردی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جو اب سمٹ کر محض 36 فیصد رہ گئی ہے۔
روایتی میڈیا کی ناکامی اور سوشل میڈیا کا اثر
پاکستان سمیت دنیا بھر میں عرصہ دراز سے یہ تاثر قائم تھا کہ امریکی میڈیا مکمل طور پر اسرائیل کا ہمنوا ہے اور وہاں فلسطین کا موقف پیش کرنا ناممکن ہے۔ تاہم، ان اعداد و شمار نے ثابت کر دیا ہے کہ:
سوشل میڈیا اور آزاد یوٹیوبرز نے وہ زمینی حقائق اور مناظر دنیا کے سامنے لائے جنہیں مین اسٹریم میڈیا چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ڈیجیٹل دور میں سچائی کو سرحدوں کے اندر قید کرنا ممکن نہیں رہا۔ نوجوان امریکی نسل نے بیانیے کی اس جنگ میں حقائق کو جانچنے کے بعد اپنا فیصلہ فلسطین کے حق میں سنایا ہے۔
ماہرینِ سیاسیات اس تبدیلی کو ایک "تاریخی موڑ” قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب عوامی آواز میں وزن ہو تو وہ بڑی سے بڑی ریاستوں کے بیانیے بدل دیتی ہے۔ یہ گراف صرف نمبرز کا مجموعہ نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب امریکی پالیسی سازوں کے لیے عوام کی اس بدلی ہوئی سوچ کو نظر انداز کرنا مشکل ہوگا۔
یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ بیانیے کی جنگ اب بند کمروں میں نہیں بلکہ عوام کے دلوں اور اسکرینوں پر لڑی جا رہی ہے، جہاں سچائی اپنا راستہ خود بنا رہی ہے۔

