راولپنڈی :ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینیٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ پاکستان کو چنتی ہے یادہشتگرد تنظیموں ٹی ٹی پی ،بی ایل اے ،داعش ،القاعدہ کو ۔افغان طالبان رجیم تمام دہشت گردوں کی پشت پر ہے۔طالبان رجیم نے پاک افغان سرحد کے 15سیکٹرز کے 53مقامات پر فائر شروع کیا ۔پاکستان نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ دنیا نے دیکھا۔تمام 53مقامات بھرپور حملے کیے گئے ۔
آپریشن غضب للحق کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آپریشن غضب للحق میں 274طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک، 400سے زیادہ زخمی 73سے زیادہ پوسٹیں مکمل طورپر تباہ،18چوکیاں پاکستان کے قبضےمیں ہیں۔دشمن کے 115ٹینک، بکتر بند گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں،کابل، پکتیا، پکتیکا ،خوست ،ننگرہار،لغمان،قندھار میں اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا۔آپریشن غضب للحق میں افواج پاکستان کے 12جوانوں نے جام شہادت نوش کیاہماری چوائس صرف اور صرف عرض پاکستان کی ناموس کی حفاظت ہے ۔وطن عزیز کی سلامتی کے لیے مسلح افواج ،سیاسی جماعتیں اور عوام کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ افغان طالبان اور خوارج نے ملکر پاکستان کی چیک پوسٹوں پر حملے کیے۔جس کا بھر پور جواب دیا گیا ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ افواج پاکستان نے مکمل درستگی سے دہشت گرودوں کے اہداف کو نشانہ بنایا ۔کور ہیڈ کورٹر ،برگیڈ ہیڈ کورٹر سمیت دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے طالبان رجیم کے دہشتگرد حملوں کے جواب میں دنیا نے دیکھا کہ افواج پاکستان نے بھرپور جواب دیا اور دنیا کو پتہ ہے کہ طالبان رجیم کس طرح دہشت گردوں کی پشت پر ہے۔انہوں نے یہ واضح کیا کہ پاکستان میں دہشگردی کرنے والے محفوظ نہیں رہیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ انداز میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا شہری آبادی محفوظ رہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعہ میں بھارت ملوث ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افواج پاکستان مشرقی اور مغربی بارڈر پر کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے دوحہ معاہدہ کیا جس میں یہ واضح تھا کہ افغانستان کی سر زمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہو گی ۔وعدہ خلافی کی گئی ۔دہشتگردی سے خطے کے امن کو خطرہ ہے آپریشن غضب للحق جاری ہے اور وژن عزم استحکام کے تحت دہشتگری کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی نیوزکانفرنس میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی ویڈیوز دکھائی گئیں ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا کہ افغان رجیم اور بھارتی سرپرستی میں ہونوالے دہشگرد حملوں کے جواب میں فتنہ الہندوستان ، فتنہ الخوارج کے 22ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔کابل، پکتیکا ،خوست ،ننگرہار،لغمان،قندھار میں اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیادہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور اسلحہ ڈپو تباہ کیے گئےدہشت گرد اپنے ساتھیوں کی نعشیں چھوڑکر بھاگ نکلے ۔وطن کی سلامتی اور حرمت کے لیے افواج پاکستان ہمہ وقت تیار ہے۔
لیفٹینیٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ پاکستان کو چنتی ہے یادہشتگرد تنظیموں ٹی ٹی پی ،بی ایل اے ،داعش ،القاعدہ کو۔افغان طالبان رجیم اور بھارت تمام دہشت گردوں کی پشت پر ہے۔طالبان رجیم نے پاک افغان سرحد کے 15سیکٹرز کے 53مقامات پر فائر شروع کیا ۔پاکستان نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ دنیا نے دیکھا۔ حملہ کرنے والے تمام مقامات کو چن چن کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشن غضب للحق میں افواج پاکستان کے 12جوانوں نے جام شہادت نوش کیاہماری چوائس صرف اور صرف عرض پاکستان کی ناموس کی حفاظت ہے ۔وطن عزیز کی سلامتی کے لیے مسلح افواج ،سیاسی جماعتیں اور عوام کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افواج پاکستان نے مکمل درستگی سے دہشت گردوں کے اہداف کو نشانہ بنایا ۔کور ہیڈ کورٹر ،برگیڈ ہیڈ کورٹر سمیت دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ انداز میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا شہری آبادی محفوظ رہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعہ میں بھارت ملوث ہے۔افواج پاکستان مشرقی اور مغربی بارڈر پر کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے دوحہ معاہدہ کیا جس میں یہ واضح تھا کہ افغانستان کی سر زمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہو گی ۔وعدہ خلافی کی گئی ۔دہشتگردی سے خطے کے امن کو خطرہ ہے آپریشن غضب للحق جاری ہے اور وژن عزم استحکام کے تحت دہشتگری کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں گی۔
آپریشن غضب للحق : 274 طالبان ہلاک، 400سے زائدزخمی، 73سے زیادہ پوسٹیں مکمل طورپر تباہ، افواج پاکستان کے 12 جوان شہید ہوئے، ڈی جی آئی ایس پی آر

