واشنگٹن :امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تحقیقات کے حوالے سے کام کرنے والے مزید اہلکاروں کو فارغ کر دیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق کہ اس بار ان اہلکاروں کو فارغ کیا گیا ہے جنہوں نے ریپبلکن کی چھپائی گئی خفیہ دستاویزات کی تحقیقات میں حصہ لیا تھا۔
یہ برطرفیاں صدر ٹرمپ کی جانب سے مقرر کیے گئے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے زیرنگرانی ہونے والے اسی سلسلے کی کڑی ہیں جس میں پچھلے برس بھی ایسے درجنوں ملازمین کو نکالا گیا تھا جنہوں نے یا تو صدر کے خلاف تحقیقات میں حصہ لیا تھا یا پھر جن کو انتظامیہ کے ایجنڈے کے خلاف سمجھا گیا تھا۔پچھلے برس صدر ٹرمپ کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے محکمہ انصاف میں بھی پراسیکیوٹرز کی برطرفیاں ہوئی ہیں۔
ایف بی آئی ایجنٹس ایسوسی ایشن نے برطرفیوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کو غیرقانونی اور قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
اس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ’ایسی کارروائیاں افرادی قوت کو غیرمستحکم اور بیورو کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ قیادت پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں جبکہ بیورو کے مطلوبہ مقاصد کو پورا کرنے کی صلاحیت کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔‘
برطرفیوں کی اس تازہ کارروائی میں وہ ملازمین شامل ہیں جنہوں نے ٹرمپ کی جانب سے مار اے لاگو ریزورٹ میں دستاویزات رکھنے کے معاملے پر تحقیقات میں حصہ لیا تھا۔
یہ ایک ایسا کیس ہے جو فلوریڈا کی ایک جائیداد کے بارے میں ہے اور اس کے نتیجے میں وفاقی استغاثہ کی جانب سے موجودہ صدر پر اپنے پہلے دور حکومت سے متعلق اعلیٰ خفیہ ریکارڈ اپنے پاس رکھنے کا الزام لگایا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔
ایف بی آئی میں کھلبلی: صدر ٹرمپ کے خلاف فائلیں کھولنے والے ایجنٹوں کی چھٹی کرادی گئی

