لاہور:(اسد مرزا)
حکومت پنجاب اور آئی جی پنجاب کی جانب سے پولیس کے اعلیٰ و ضلعی سطح پر بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے کے احکامات جاری کر دیے گئے، جس کے بعد محکمہ پولیس میں ایک بڑا انتظامی جھٹکا سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان تبادلوں کی خبر سب سے پہلے بے نقاب ٹی وی نے بریک کی تھی، تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب کی مصروفیات کے باعث اس پر فوری عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اب باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ خبر درست ثابت ہو گئی ہے، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ عید کے بعد تبادلوں کا دوسرا بڑا مرحلہ بھی متوقع ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے اعلیٰ افسران کی سطح پر اہم تقرریاں کی گئی ہیں۔ خرم شاکور کو ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ سی پی او لاہور تعینات کرتے ہوئے انہیں ایڈیشنل آئی جی رائٹ مینجمنٹ پولیس کا اضافی چارج بھی سونپ دیا گیا ہے۔ عثمان اکرم گوندل کو ڈی آئی جی آپریشنز سی ٹی ڈی سے تبدیل کر کے ریجنل پولیس آفیسر ملتان تعینات کیا گیا ہے۔
دوسری جانب آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم کی قیادت میں ضلعی سطح پر بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی کو ڈی پی او اوکاڑہ، کیپٹن (ر) دوست محمد کو سیالکوٹ، ساجد حسین کھوکھر کو جھنگ اور ارسلان زاہد کو ننکانہ صاحب تعینات کیا گیا ہے۔
اسی طرح محمد وقار عظیم کو میانوالی، محمد عابد کو خانیوال، اخلاق اللہ تارڑ کو ٹوبہ ٹیک سنگھ جبکہ شفیق احمد کو جہلم کا ڈی پی او مقرر کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق محمد طارق عزیز کو اسپیشل برانچ لاہور ریجن، سید عمران کرامت بخاری کو انٹیلی جنس اسپیشل برانچ اور فاروق سلطان کو اے آئی جی ایڈمن اینڈ سکیورٹی تعینات کیا گیا ہے، جبکہ اسماعیل الرحمن کو اے آئی جی کمپلینٹس اور احمد محی الدین کو سنٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ مزید تقرریوں میں محمد راشد کو سی ٹی ڈی میں ایس ایس پی انٹیلی جنس، کیپٹن (ر) محمد اجمل کو اے آئی جی آپریشنز ساؤتھ پنجاب، فراز احمد کو اے آئی جی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ جبکہ فیصل شہزاد اور عابد نثار کو سنٹرل پولیس آفس میں تربیتی کورس کے لیے رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دیگر اہم تعیناتیوں میں بلال افتخار کو ایس ایس پی پی ایچ پی گوجرانوالہ، عبدالوهاب کو سی سی ڈی ہیڈکوارٹرز لاہور، وسیم اختر کو چیف ٹریفک آفیسر گوجرانوالہ اور عائشہ بٹ کو ایلیٹ پولیس فورس ہیڈکوارٹرز لاہور تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ وسیع پیمانے پر تبادلے کارکردگی بہتر بنانے، کمانڈ اینڈ کنٹرول مضبوط کرنے اور امن و امان کی صورتحال کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، جبکہ عید کے بعد مزید اہم تبدیلیوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے



