اسلام آباد: عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی ایک پورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب میں قائم کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) نے صرف آٹھ ماہ کے دوران 900 سے زائد افراد کو مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور میں زبیدہ بی بی کے گھر پر چھاپے کے بعد ان کے بیٹوں کو حراست میں لیا گیا اور صرف 24 گھنٹوں کے اندر پانچ افراد مختلف اضلاع میں “پولیس مقابلوں” میں مارے گئے۔ اہلِ خانہ کے مطابق مقتولین کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
یہ معاملہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی 17 فروری کو جاری کردہ رپورٹ کا مرکزی حصہ ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اپریل سے دسمبر 2025 کے درمیان 670 سے زائد مقابلوں میں 924 افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں ان کارروائیوں کو “ماورائے عدالت قتل کی منظم پالیسی” قرار دیا گیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق یہ فورس وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے “سیف پنجاب” وژن کے تحت قائم کی گئی، تاہم اس کے قیام کے فوری بعد مقابلوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سب سے زیادہ واقعات لاہور، فیصل آباد اور شیخوپورہ میں رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ میں ایک اور اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ مختلف اضلاع میں درج مقدمات اور پولیس بیانیے حیران کن حد تک ایک جیسے ہیں، جن میں ملزمان کو رات کے وقت “مشکوک حرکت” کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے، وہ پہلے فائرنگ کرتے ہیں اور پھر جوابی کارروائی میں مارے جاتے ہیں جبکہ ساتھی فرار ہو جاتے ہیں۔ HRCP نے اسے “کاپی پیسٹ کلچر” قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق اگرچہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ان اقدامات سے جرائم میں کمی آئی ہے، تاہم قانون سے ہٹ کر اقدامات ریاستی نظامِ انصاف کو کمزور کرتے ہیں اور مستقبل میں بے گناہ افراد بھی اس کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
پنجاب میں 900 سے زائد ہلاکتیں: الجزیرہ کی رپورٹ نے پولیس مقابلوں پر سنگین سوالات اٹھا دیے

