اسلام آباد: رمضان المبارک کے باعث تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا پارلیمنٹ ہاؤس سے دھرنا ختم کرنیکا اعلان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمد سہیل آفریدی نے عمران خان رہائی فورس کے قیام کا اعلان کردیا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہعلامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو عمران خان نے مذاکرات اور احتجاج کی زمہ داری دی تھی ان کا فیصلہ تھا کہ پارلیمنٹ میں دھرنا دیا جائے، ہم نے ان کا فیصلہ تسلیم کیا آج انہوں نے دھرنا ختم کیا ہے اور کہا ہے ہم عمران خان کی بہنوں کی تسلی تک انکے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام کی جانب سے عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کے بعد اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، ملک بھر میں نوجوانوں کی ممبرشپ حاصل کی جائے گی اور فورس میں آئی ایس ایف، انصاف یوتھ ونگ، وومن ونگ، مائنارٹی ونگ، پروفیشنلز اور ہر مکتبہ فکر کے افراد شامل ہوں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی اور رہائی کے بعد فورس کو خود عمران خان تحلیل کریں گے، ممبرشپ کارڈز 4 سے 5 دن میں تیار ہو جائیں گے اور عید کے بعد پشاور میں نوجوانوں سے حلف لیا جائے گا، تحریک کے لیے مضبوط چین آف کمانڈ ہوگی اور ہر ہدایت عمران خان کی نامزد قیادت کے ذریعے آئے گی، یہ جدوجہد حقیقی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت اور آزاد میڈیا کے لیے ہے۔
انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ عزت اور ذلت منصب سے نہیں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور عمران خان جیل میں رہ کر بھی عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں، پی ٹی آئی عدالتی احکامات کی مکمل پابندی کرتی ہے اور خیبر پختونخواہ کے عوام نے صبر اور وفاداری کا ثبوت دیا ہے، آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کاپارلیمنٹ ہاؤس میں دیا گیا دھرنا ختم
ملک میں ماہِ رمضان کا آغاز ہونے کے باعث تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں دیا گیا دھرنا ہم ختم کرنے جا رہے ہیں، ممبران اسمبلی نے بانی کی صحت کو لے کر احتجاج کیا، ہم صحت کے معاملے کو عدالت لے کر گئے، ہمارا مطالبہ یہی تھا کہ ذاتی معالجین کو ملایا جائے، ہم نے دیکھا کہ پارلیمنٹ کو جیل خانہ بنا دیا گیا تھا، ہم پارلیمنٹ سے باہر جا رہے تھے کہ راستے بند کر دیئے گئے۔

