لاہور: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ معاشرے الفاظ اور بحث و مباحثے کی بنیاد پر قائم کیے جاتے ہیں، اگر اسمبلی کو اکھاڑا بنا لیا جائے تو عوامی نمائندگی غیر فعال ہو جاتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی کی پرانی بلڈنگ میں "سپیکر اور عوام” کے عنوان سے منعقدہ ایک خصوصی سیشن میں نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
سپیکر نے انکشاف کیا کہ پنجاب اسمبلی میں پہلی بار "پبلک پٹیشنز” کا نظام وضع کیا گیا ہے۔
اب کسی بھی علاقے کے لوگ دستخطوں کے ساتھ اپنی درخواست (پٹیشن) اسمبلی بھیج سکتے ہیں، جو براہِ راست قائمہ کمیٹی کے پاس جائے گی اور متعلقہ محکمے اسے حل کرنے کے پابند ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو رکن اپنے حلقے سے رابطہ نہیں رکھتا، وہ فطری طور پر اگلا الیکشن ہار جاتا ہے۔
ملک محمد احمد خان نے عدالتی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا "آج اے آئی (AI) اور جدید ٹولز کا دور ہے، کسی بھی معاملے پر رائے قائم کرنے سے پہلے تحقیق ضروری ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ آئینی مسائل کے لیے آئینی عدالتیں اور دیگر مسائل کے لیے الگ عدالتیں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ زیر التوا لاکھوں مقدمات کا بوجھ کم ہو سکے۔
سپیکر نے طلبہ کے لیے اہم اعلانات اور خیالات کا اظہار کیا۔ملک محمد احمد خان نے واضح طور پر طلبہ یونین کی بحالی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بنانے میں ‘ایم ایس ایف’ اور طلبہ کا کلیدی کردار تھا۔
مہنگی ڈگریوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق ہر یونیورسٹی 10 فیصد طلبہ کو سکالرشپ دینے کی پابند ہے، اور اسمبلی اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔
انہوں نے بسنت بل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے ایک حادثاتی کھیل کو کروڑوں روپے کے معاشی بزنس اور پرامن تفریح میں بدلا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے روڈ برطانیہ سے زیادہ کھلے ہیں، مگر ہمیں صرف ڈسپلن لانے کی ضرورت ہے۔
سپیکر نے سیشن کے اختتام پر خواہش ظاہر کی کہ معاشرے میں نفرت کے بجائے ڈائیلاگ (مکالمے) کو فروغ ملے، کیونکہ منفی باتوں پر خوشی منانا معاشرتی تنزلی کی علامت ہے۔
معاشرے تلوار کی نوک پر نہیں، مکالمے سے بنتے ہیں: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان

