تحریر:ملک محمد سلمان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
کون ہے ؟کون ہے؟ پوچھنے والوں کو میں نہیں بتا سکتا کہ تم خود اس حمام میں ننگے اور گندے ہو۔ بہت سارے جعلی ایمانداروں اور نیکوکاروں کو نہیں بتا سکتا کہ تمہاری آڈیو اور ویڈیو خود دیکھی ہیں کہ جس میں تم خاتون کی منتیں کر رہے ہو کہ پہلے آپ پھر میں آن لائن سیلف پریکٹس کرتے ہیں۔ عقل کے اندھو ابھی بھی وقت ہے کسی باہر کی عورت کے قدم چومنے سے بہتر ہے اپنی بیوی کے قدم دبا کر دیکھ لو دنیا جنت بن جائے گی۔
میرا مقصد صرف اصلاح اور خبردار کرنا ہے کہ جو گند تم لوگوں نے پھیلایا ہے تھیلے سے باہر آگیا تو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوگے۔ میں اس چیز پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ کسی کی پرائیویسی خراب نہیں کرنی چاہئے لیکن بطور خیر خوا تمہیں سمجھانے کی آخری کوشش ہے کہ کتے کی رال ٹپکانے سے بہتر ہے تھوڑے میں گزارا لو۔
واہیات افسران جس طرح کی تھڑی ہوئی حرکتیں کرچکے ہیں صرف وہ ہی پبلک ہو جائیں تو بہت سارے خودکشی کرلیں یا احساس ندامت سے پاگل ہوجائیں۔ویسے ایسی امید بھی کم لوگوں سے ہیں کیونکہ جس قدر گھٹیا ذہنیت کا ثبوت دے چکے ہیں لگتا نہیں کہ ان میں رتی برابر بھی شرم باقی ہوگی۔ چلیں شرم غیرت نہ سہی بے حیاؤ اپنا سوشل سٹیٹس ہی بچا لو۔
جو سنئیر افسران پارلیمنٹیرین، صحافیوں، ساتھی افسران اور دیگر بااثر شخصیات کیلئے بھی اکثر پہنچ سے دور ہوئے ہوتے ہیں وہ آوارہ لونڈوں لپاڑوں کی طرح لانگ ڈرائیو کے نام پر "شوگر بے بیز” کی خاطر روڈ انسپکیٹری کرتے ہوئے سڑکوں کی خاک چھان رہے ہوتے ہیں۔
ڈوپ ٹیسٹ کروا لیں آپ کو اندازہ ہوجائے گا جنسی خواہشات کی وحشت میں سوکالڈ کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے ڈرگز کے عادی ہوچکے ہیں۔ڈرگز کی کثرت کی وجہ سے منہ پر لعنتیں اور پھٹکارے سرجری کروانے سے بھی ختم نہیں ہو رہیں۔ چند افسران انباکس میں اخلاقیات کا لیکچر دے رہے تھے، یہ وہی ہیں جن کی ویڈیوز دیکھ چکا ہوں کہ خاتون کو کہتے ہوئے کہ یہ ساشے تمہارا یہ ساشے میرا اب دیکھنا یہ رات کبھی نہیں بھول پاؤگی۔
اس ٹاپک کومذید اگلی قسط میں سہی
اخلاقی کرپشن کا دوسرا پہلو بھی دکھا دوں جس پر لکھنے کیلئے انہی افسران کی بیگمات نے سپیشل ریکوئسٹ کی کہ ان بے غیرت افسران کی اس عادت کی وجہ سے انکی بیویوں کی زندگی برباد ہوچکی ہیں۔
گزشتہ سال ایک سنئیر آفیسر کی وائف کی کال آئی کہ سلمان صاحب آپ کبھی۔۔۔اس نامرد کو بھی بندوں کی گیدرنگ میں انوائٹ کرلیا کریں کہ شائد انسان بن جائے۔ میں نے کہا کہ پانچ سات دفعہ بلایا ہے لیکن شائد وہ مصروف ہوتے ہیں۔ مذکورہ خاتون نے پراسرار قہقہے کے ساتھ کہا کہ اس (ک ن ج ر) نے ایک ہی کام میں مصروف ہونا ہوتا ہے۔آپ کی محفل اوپن ہوتی ہے جبکہ اس کو بند کمرے میں مردوں کے ساتھ بیٹھنا پسند ہے۔اس بات کا مطلب مجھے کچھ مہینے بعد سمجھ آیا جب مجھے ایک اور آفیسر کی وائف نے کال کی۔۔۔۔یہ آپکی طرف ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں میری طرف تو آج تک نہیں آیا۔ کہنے لگیں کہ مجھے تو آپ کا انویٹیشن دکھا کر نکلا تھا کہ ڈنر پر جارہا ہوں۔ خاتون آفیسر نے اصرار کیا کہ آپ لوکیشن شئیر کریں میں آپکو پک کرتی ہوں آپ نے ایک جگہ چھاپہ مارنے میرے ساتھ جانا ہے۔۔۔یہ وہیں ملے گا۔
میں نے بہت کہا کہ یہ میرا نہیں آپ کا ذاتی گھریلو معاملہ ہے۔ خیر انکے اصرار پر میں ان کے ساتھ چل نکلا فیز 8 میں گھر کے سامنے جا کر انہوں نے نان سٹاپ ہارن بجانا شروع کردیا۔ چوکیدار باہر نکلا تو اسے کہا کہ۔۔۔۔۔کو کہو کہ عزت سے خود باہر آجائے ورنہ میں نے اندر آکر سب کو گولی مار دینی ہے۔ مذکورہ آفیسر ہاتھ جوڑتا ہوا باہر آیا کہ پلیز گھر جاؤ میں تمہارے پیچھے آیا۔خاتون نے اس آفیسر کو دیکھتے ہی کہا کہ تیری۔۔۔دا کھسم تے اے۔ تم اس شریف بندے کا نام لیکر یہاں مردوں کی گود میں بیٹھ کر منہ کالا کرنے پہنچے ہوئے ہو۔ پہلے واقع میں مینشن کیے گئے آفیسر کی گاڑی بھی وہیں کھڑی دیکھی تو تب سمجھ آئی کہ کس بند کمرے کا ذکر ہو رہا تھا۔
چند ماہ قبل میں اور سنئیر کالم نویس محسن گورائیہ لاہور جمخانہ کلب میں بیٹھے ہوئے تھے کہ زوردار تھپر اور خاتون کی گالیوں کی آواز آئی۔پیچھے مڑ کر دیکھا تو اہم محکمے کے ڈی جی تھپڑ سے لال منہ کو چھپائے بھاگ رہا تھا کہ جبکہ خاتون گالیاں دے رہی تھی کہ اگر مردوں کے ساتھ ہی منہ کالا کرنا تو اس سے شادی کیوں کی۔
بیوروکریسی کا یہ ”گے گروپ“ ہر طرح کی شوشل گیدرنگ سے دور اپنی دنیا میں مگن کام ڈالتا رہتا ہے۔ لیکن ان کے اس قوم لوط والے شوق سے انکی بیویوں کی زندگی برباد ہوچکی ہے اس لیے وہ کھلم کھلا ان کے دوستوں کو اس بات کے شکوے کرتی ہیں کہ وہ صرف شو پیس اور سٹیٹس سمبل بن کر رہ گئیں ہیں اور ان کے خاوند شادی سے پہلے والے شوق سے باہر نہیں نکل رہے۔
پارٹی اور "گے گروپ” دونوں کی خاصیت ہے کہ سوشل گیدرنگ اور دوستوں کی محفل سے الگ تھلگ رہتے ہیں کیونکہ ان کو ذہنی ڈر ہوتا ہے کہ اپنے شوق کے ہاتھوں مجبور صوفے کی بجائے کسی کی گود میں نہ بیٹھ جائیں۔
”گے گروپ“ والے دفتر میں چڑچڑے پن کا شکار اور فرعونیت کا روپ دھارے رہتے ہیں۔
”گے گروپ“والے افسران بامشکل تیس سے چالیس ہوں گے لیکن یہ سارے اس مخصوص گروپ کی وجہ سے "کی پوسٹ” انجوائے کررہے ہیں۔
جاری ہے۔۔۔

