واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر پینٹاگون کی جانب سے ایک اور بڑے فوجی اقدام کی تصدیق کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ری پوسٹ کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی وزارتِ دفاع نے دوسرے طیارہ بردار بحری بیڑے (Aircraft Carrier Strike Group) کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے الرٹ رہنے کا حکم دے دیا ہے۔
: رپورٹ کے مطابق، پینٹاگون کا یہ فیصلہ خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ اس دوسرے بحری بیڑے کی تعیناتی کا مقصد خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ اور اتحادیوں کو سکیورٹی کی یقین دہانی کروانا ہے۔ یہ بحری بیڑا جدید ترین لڑاکا طیاروں، میزائل سسٹم اور ہزاروں فوجیوں سے لیس ہے، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس رپورٹ کو ری پوسٹ کرنا اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ ان کی انتظامیہ خطے میں فوجی طاقت کے ذریعے ‘دباؤ’ بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
پہلے سے موجود امریکی بحری بیڑے کے بعد دوسرے بیڑے کی آمد سے سمندری حدود میں فوجی توازن مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا، جسے ماہرین ‘طاقت کے بھرپور مظاہرے’ سے تعبیر کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے اس اقدام سے کشیدگی میں کمی کے بجائے اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ اس سے ایران اور دیگر علاقائی قوتوں کے جوابی ردِعمل میں تیزی آ سکتی ہے۔ واشنگٹن میں موجود سفارتی حلقے اسے ‘جنگ روکنے کی کوشش’ قرار دے رہے ہیں جبکہ مخالفین اسے خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیلنے کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے: امریکا نے دوسرا بحری بیڑا روانہ کرنے کی تیاری کر لی، یروشلم پوسٹ

