لاہور:انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی جلائو گھیرائو اور مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو نذرِ آتش کرنے میں نامزد بانی تحریک انصاف کی بہنوں سمیت دیگررہنمائوں کی عبوری ضمانتوں میں3 اپریل تک توسیع کر دی، جبکہ بعض ملزمان کی ایک روزہ حاضری سے استثا کی درخواستیں منظور کر لی گئیں۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کیسوں کی سماعت کرتے ہوئے جمعہ کو ضمانتوں کی معیاد ختم ہونے پر فواد چوہدری عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی حاضری مکمل کروائی، جبکہ اسد عمر، علیمہ خان، عظمی خان اور اعظم خان سواتی پیش نہ ہو سکے۔ ملزمان کی جانب سے وکلا نے حاضری معافی کی درخواستیں دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ علیمہ خان اور عظمی خان کی آج راولپنڈی کی عدالت میں پیشی مقرر ہے،
جبکہ اسد عمر کو کراچی سے لاہور آنے کے لیے پرواز دستیاب نہیں ہو سکی۔ عدالت نے ایک روزہ حاضری سے استثنا کی درخواستیں منظور کر لیں۔عدالت کے روبرو بتایا گیا کہ ملزمان کے خلاف عسکری ٹاور، شیر پائو پل اور مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے سمیت مختلف نوعیت کے مقدمات درج ہیں، جن میں انہوں نے عبوری ضمانتیں حاصل کر رکھی ہیں، بعد ازاں عدالت نے تمام متعلقہ مقدمات میں ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں3 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی اور آئندہ سماعت پر سرکاری پراسیکیوٹرز سے تمام مقدمات کی تفتیش بارے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی ۔ ملزمان کے خلاف لاہور کے مختلف پولیس تھانوں میں مقدمات درج کر رکھے ہیں۔
نو مئی کیس، پی ٹی آئی نامزد رہنمائوں کی عبوری ضمانتوں میں توسیع،حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں منظور

