واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پینٹاگون (امریکی وزارت دفاع) کے قریب واقع پیزا شاپس پر آرڈرز میں 250 فیصد سے زائد غیر معمولی اضافے نے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین نے اسے ایک ممکنہ بڑے فوجی آپریشن یا ایران پر حملے کی علامت قرار دینا شروع کر دیا ہے۔
پیزا میٹر کیا ہے؟
تاریخی طور پر "پیزا میٹر” ایک غیر سرکاری اشاریہ سمجھا جاتا ہے، جس کے مطابق جب بھی امریکہ کسی بڑی فوجی کارروائی یا بین الاقوامی بحران کی تیاری کرتا ہے، تو پینٹاگون کے حکام اور عملہ رات گئے تک دفاتر میں کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس دوران پینٹاگون کے قریبی پیزا ریستورانوں میں آرڈرز کی تعداد میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماضی میں خلیجی جنگ اور پاناما آپریشن سے قبل بھی پیزا آرڈرز میں ایسا ہی اضافہ دیکھا گیا تھا۔
یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی خلیج فارس میں ایک بڑا بحری بیڑہ (Armada) روانہ کر چکے ہیں اور ایران کو جوہری پروگرام پر "سخت کارروائی” کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اگرچہ عمان اور ترکیہ میں سفارتی مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، لیکن پینٹاگون میں بڑھتی ہوئی یہ سرگرمی کسی اور ہی کہانی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں: ٹویٹر (X) اور پلیٹ فارمز پر Pentagon Pizza Watch” کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لوگ پینٹاگون کے قریب واقع پاپا جونز اور ڈومینوز کے ‘لائیو وزٹ’ ڈیٹا کو ٹریک کر رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ پیزا آرڈرز میں یہ تیزی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی جنرلز اور اسٹریٹجک ماہرین کسی بڑی کارروائی کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔
اگرچہ پینٹاگون کی جانب سے باضابطہ طور پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پیزا میٹر ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتا، تاہم موجودہ جغرافیائی سیاسی حالات میں اس نظر انداز کرنا مشکل ہے۔

