لاہور ( بے نقاب ٹی وی رپورٹ)انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب راؤ عبدالکریم کے سی پی او پہنچنے پر ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران نے روایتی پروٹوکول کے مطابق آئی جی پنجاب کو سلوٹ پیش کی اور مصافحہ کیا، تاہم اسی موقع پر پی ایس او ٹو آئی جی، ایس ایس پی اسد اعجاز ملہی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں کیپ نہ پہننے اور بظاہر سلوٹ نہ کرنے پر مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔
بے نقاب ٹی وی کو پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس سروس رولز کے مطابق اگر کوئی افسر کیپ میں ملبوس نہ ہو تو وہ سلوٹ نہیں کرتا بلکہ بازو سیدھے اور ہلکے اوپر رکھتے ہوئے رسمی سلام کرتا ہے، جو مکمل طور پر ضابطے کے مطابق عمل ہے۔ سینئیر پولیس افسران کے مطابق ایس ایس پی اسد اعجاز ملہی نے بھی عین اسی پروٹوکول کے تحت آئی جی پنجاب کو رسمی سلام کیا، تاہم ویڈیو کے زاویے اور فاصلے کے باعث یہ عمل واضح طور پر نظر نہ آ سکا جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ پولیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ چونکہ ایس ایس پی اسد اعجاز ملہی بطور پی ایس او ٹو آئی جی سب سے پہلے آئی جی پنجاب کو رسیو کرنے کی ذمہ داری ادا کر رہے تھے، اس لیے پروٹوکول کے مطابق ان کا اندازِ سلام قواعد کے عین مطابق تھا اور اس میں کسی قسم کی غفلت کا عنصر شامل نہیں۔ جبکہ حقیقت میں ایس ایس پی اسد اعجاز ملہی نے پولیس نظم و ضبط اور سروس رولز کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری کی۔
”شن سلوٹ“ کے رولز
پولیس اور عسکری اداروں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ‘ڈرل’ اور ‘پروٹوکول’ کے مخصوص قوانین رائج ہیں، جن کی خلاف ورزی ڈسپلن کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں پروٹوکول کے حوالے سے پیدا ہونے والی بحث کے بعد ماہرین نے ان قواعد کی تفصیلات واضح کی ہیں۔
‘اٹینشن’ (Shun) کی پوزیشن کیا ہے؟
رولز کے مطابق جب کسی افسر کو ‘اٹینشن’ یا ‘ہوشیار’ (Shun) کا حکم دیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ:
-
دونوں ایڑیاں ملی ہوئی اور پاؤں مخصوص زاویے پر ہوں۔
-
جسم بالکل سیدھا اور بازو نیچے کی طرف ہوں، جبکہ مٹھیاں بند اور ہاتھ پتلون کی سلائی کے عین پیچھے ہوں۔
سلوٹ کے آداب اور ‘ہیڈ گیئر’ کی شرط
سلوٹ کے حوالے سے سب سے اہم قاعدہ ‘سلوٹ دی رینک’ (Salute the Rank) ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ سلام دراصل افسر کے عہدے اور ریاست کے تفویض کردہ وقار کو کیا جاتا ہے۔
-
ٹوپی (Cap) کی اہمیت: پروٹوکول کا بنیادی اصول یہ ہے کہ سلوٹ صرف اسی صورت میں کیا جاتا ہے جب افسر نے ٹوپی (Headgear) پہن رکھی ہو۔
-
ٹوپی کے بغیر سلام: اگر کوئی افسر یونیفارم میں ہو لیکن اس نے سر پر ٹوپی یا بیریٹ (Beret) نہ پہن رکھی ہو، تو وہ سلوٹ کرنے کے بجائے صرف ‘اٹینشن’ کی پوزیشن میں کھڑا ہوتا ہے۔ اسے قواعد کے مطابق ‘رسمی سلام’ تصور کیا جاتا ہے۔
طریق کار اور استثنا
عام طور پر کسی افسر کے پاس سے گزرتے ہوئے تین قدم پہلے سلوٹ کیا جاتا ہے اور گزرنے کے بعد ہاتھ نیچے کیا جاتا ہے۔ اگر دایاں ہاتھ زخمی ہو یا اس میں کوئی سامان ہو، تو ایسی صورت میں بائیں ہاتھ سے بھی سلوٹ کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
بعض افسران کی جانب سے اعتراض برقرار
دوسری جانب محکمے کے بعض افسران، جنہیں اندرونی حلقوں میں “شرارتی عناصر” قرار دیا جا رہا ہے، انکا یہ سوال بلکل جائز ہے چونکہ آئی جی پنجاب کا یہ پہلا سرکاری دن تھا، اس لیے پی ایس او کی جانب سے کیپ نہ پہننے کی وجہ کیا تھی۔ وہ اپنے آفس سے یہاں پہنچے تھے نا کہ فیلڈ یا کچا آپریشن سے ۔۔۔۔ اسی وجہ سے آئی جی پنجاب نے مصافحہ نہیں کیا۔

