تحریر:میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
پنجابی آج سے لمبی چھٹیوں پر جا رہے ہیں وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے روزوں سے بھی پہلے عید کروا دی ہے لاہور اس وقت ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے پورے شہر پر بسنتی رنگ غالب آ چکا ہے تمام تشہیری بورڈ بھی بسنت کی مناسبت سے مصنوعات کی تشہیر سے سج چکے ہیں بسنت کی دعوتیں دی جا رہی ہیں پروگرام ترتیب دیے جا رہے ہیں نہ جانے کس کس کی بکنگ ہو رہی ہے ایسے لگ رہا ہے جیسے بسنت کا پھاٹک کھل گیا ہے حکومتی سرپرستی میں منائی جانے والی بسنت کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اوپر سے پنجاب حکومت نے 5چھٹیاں دے کر موجیں کروا دی ہیں ویسے تو پنجاب حکومت نےبسنت منانے کے لیے ہرممکن فول پروف حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں لیکن اس کے باوجود خدشات موجود ہیں اللہ کرے کسی کے گلے میں ڈور نہ پھرے سب حادثات سے محفوظ رہیں
ایک طرف پنجاب کے رہنے والے جشن بہاراں کی تیاریوں میں مصروف ہیں زندہ دلان لاہور اگلی پچھلی کسریں نکال رہے ہیں پیسوں کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے تو دوسری جانب خیبر پختون خواہ والے 8فروری کو بھرپور احتجاج کی تیاریاں کر رہے ہیں پنجاب میں احتجاج پر پابندی ہے جشن پر نہیں ہو سکتا ہے کھلاڑی نئے طریقے کا جشن نما احتجاج منا لیں ویسے تو پولیس اور انتظامیہ کو بھی ان باتوں کا ادراک ہے اور پنجاب حکومت پہلے ہی سیاسی پتنگوں پر پابندی لگا چکی ہے اس کے باوجود یہ پولیس اور انتظامیہ کے لیے بہت بڑا امتحان ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا کس کا کس کے ساتھ پیچا پڑتا ہے اور کس کا بو کاٹا ہوتا ہے آگ دونوں طرف برابر کی لگی ہوئی ہے لاہور دو تین روز مرکز نگاہ رہے گا کیونکہ لاہوریوں نے کافی نامور لوگوں سمیت اندرون ملک اور بیرون ممالک سے مہمانوں کو مدعو کر رکھا ہے بعض حکومتی عہدیداروں سمیت اہم شخصیات بھی بسنت منانے لاہور آ رہی ہیں لگتا ہے روائیتی بسنت سے کچھ الگ ہی ہونے جا رہا ہے کہیں میوزک کا تڑکا ہو گا تو کہیں کھابوں کی بہار ہو گی مفت کی ٹرانسپورٹ کیا رنگ جماتی ہے یہ تجربہ پہلی بار کیا جا رہا ہے چونکہ ہم ہر چیز کو سیاست کا رنگ دے دیتے ہیں کچھ لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے تحریک انصاف کے احتجاج کو روکنے کے لیے بسنت کا ڈول ڈالا ہے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے نومنتخب اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی کال پر ملک بھر میں 8فروری یوم انتخاب پر احتجاج منایا جا رہا ہے توقع ہے کہ اس احتجاج کے مختلف رنگ ہوں گے محمود خان اچکزئی کے بلوچستان میں موثر احتجاج ہونا چاہیے کیونکہ اچکزئی صاحب بلوچستان کی نمائندگی کرتے ہیں مولانا فضل الرحمن نے بھی 8فروری کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے پتہ نہیں وہ کس قسم کا احتجاج کرتے ہیں ان کے پاس موثر افرادی قوت موجود ہے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جماعت بھی اپوزیشن کے احتجاج میں شریک ہے صاحبزادہ فضل کریم اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کی جماعت بھی اپوزیشن کے احتجاج میں شریک ہے سب سے موثر احتجاج کی تیاریاں وزیر اعلی خیبر پختون خواہ سہیل خان آفریدی کر رہے ہیں کوشش ان کی ہے کہ ایک بار پھر اسلام آباد پر چڑھائی کی جائے لیکن یہ احتجاج خیبر پختون خواہ تک بھی محدود رہ سکتا ہے کیونکہ وزیر اعلی خیبر پختون خواہ کی وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف سے ملاقات میں خیبر پختونخوا کو روکے گئے فنڈز جاری ہونے کی امید دلا دی گئی ہے ویسے تو سہیل خان آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم سے ملاقات میں کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی ان کے وزیر اعلی بننے کے بعد بعد یہ ان کی وزیر اعظم سے پہلی ملاقات تھی بظاہر تو فنانس اور دہشتگردی پر بات ہوئی ہے لیکن جب دو سیاسی رہنما ملتے ہیں تو اشارے کنایوں میں بھی بہت ساری باتیں ہو جاتی ہیں اور کئی دفعہ تو جان بوجھ کر باتیں چھپائی بھی جاتی ہیں وفاق کی جانب سے تحریک انصاف کی حکومت کو فنڈز جاری کرنا معمول کی کارروائی نہیں بلا شبہ ابھی یہ فنڈز جاری نہیں ہوئے لیکن کافی حد تک معاملات طے پا گئے ہیں اور توقع ہے کہ یہ فنڈز جلد جاری ہو جائیں گے وفاقی وزیر احسن اقبال اور خیبر پختون خواہ کے مشیر معاشی امور مزمل اسلم کو معاملات طے کرنے کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں تحریک انصاف کے لیے سارا معاملہ عمران خان کی رہائی یا انھیں سہولتیں فراہم کروانا ہے یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ 8فروری کے احتجاج کی روشنی میں عمران خان کی ملاقاتیں بحال کر دی جائیں گی اگر اپوزیشن نے حدود وقیود میں رہ کر احتجاج کیا تو معاملات آگے بڑھ جائیں گے ورنہ ایسے ہی چلتا رہے گا دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ کے لیے اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت ہے اس لیے کچھ نہ کچھ برف پگھلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے ویسے موسم بھی بدل رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کے مزاج بھی بدل جائیں۔


