موغادیشو : ترکیہ کی جانب سے صومالیہ کی سرزمین پر پہلی بار باقاعدہ جنگی تعیناتی کے بعد ترک ایف-16 طیاروں نے دارالحکومت موغادیشو کے قریب دہشت گرد تنظیم ’الشہاب‘ کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔
یہ کارروائی انقرہ کی صومالیہ میں دفاعی حکمتِ عملی میں ایک بڑے موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں اب ترکیہ محض تربیتی کردار سے نکل کر فعال فضائی قوت کے طور پر سامنے آگیا ہے۔
حالیہ منظرِ عام پر آنے والی ویڈیوز اور رپورٹس کے مطابق ترکیہ کے تین ایف-16 (F-16) لڑاکا طیارے 28 جنوری کو موغادیشو کے عدن عدے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچے تھے۔ان طیاروں نے پہنچنے کے فوری بعد الشہاب کے خلاف فعال آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد صومالی حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے براہِ راست فضائی مدد فراہم کرنا ہے۔
🇸🇴🇹🇷 TURKISH F-16S STRIKE AL-SHABAB TARGETS OVER MOGADISHU
Footage shows Ankara’s first combat deployment on Somali soil.
Three F-16s arrived January 28 at Aden Adde Airport transitioning from advisory role to active airpower projection. pic.twitter.com/5wXLrpF12z
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) February 3, 2026
مشاورتی کردار سے جنگی مشن تک کا سفر
ترکیہ طویل عرصے سے صومالیہ میں اپنے سب سے بڑے غیر ملکی تربیتی مرکز (TURKSOM) کے ذریعے صومالی فوج کو تربیت فراہم کر رہا ہے۔ تاہم، حالیہ فضائی حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انقرہ نے اب اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے اور وہ زمین پر اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے اپنی فضائی طاقت استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

