ماسکو: روس کے حکام نے کہا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی غیرملکی فوجی دستے کی تعیناتی یا انفراسٹرکچر کی تعمیر کو بیرونی مداخلت تصور کیا جائے اور ان کو جائز ٹارگٹ کے طور پر دیکھا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارےکے مطابق روسی وزارت خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری کیے بیان میں وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا حوالہ دیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سرگئی لاروف نے مذکورہ موقف ایک سوال کے جواب میں اختیار کیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا گیا اور کہا کہ وہ تنازع کے پیھچے کی بنیادی وجوہات کو سمجھتے ہیں۔روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین میں فوجی دستوں کی تعیناتی، ویئر ہاؤسز اور دوسرے انفراسٹرکچر کی تعمیر قابل قبول نہیں ہے اور اس کو بیرونی مداخلت اور روس کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ سمجھا جائے گا۔‘
بیان کے مطابق ’وہ مغربی ممالک جنہوں نے امن معاہدے کے لیے یوکرین میں ممکنہ تعیناتی پر مشاورت کیا، ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جو بھی غیرملکی فوجی دستے تعینات کیے گئے بشمول جرمنی کے، تو وہ ہماری مسلح افواج کے جائز اہداف بن جائیں گے۔‘
امریکہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور رواں ہفتے متحدہ عرب امارات میں اسی مقصد کے تحت روس اور یوکرین کے نمائندوں کے درمیان دوسری سہ فریقی ملاقات بھی ہونے والی ہے۔
بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یوکرینی علاقہ روس کو دینے کا معاملہ معاہدے کے لیے ہونے والی کوششوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
کیئف کی جانب سے روس کے مطالبے کو مسترد کیا گیا ہے کہ وہ ڈونباس کے علاقے کو چھوڑ دے۔
ماسکو پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہے کہ وہ یوکرین میں مغربی ممالک کی فوج کو برداشت نہیں کرے گا۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ماسکو اس تنازع کے خاتمے کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے ہونے والی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
بیان میں صدر ٹرمپ کو مغرب کے ان چند سیاست دانوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے جنہوں نے یوکرین کے مسئلے کے حل کے لیے ماسکو کے ساتھ نہ صرف ٹھوس بات چیت شروع کرنے کے لیے نہ صرف پیشگی شرائط ماننے سے انکار کیا بلکہ اس سے متعلق بنیادی وجوہات کے بارے میں عوامی سطح پر بات بھی کی۔

