اسلام آباد : نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں کارروائی کرتے ہوئے معصوم بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے، خریدنے اور فروخت کرنے والے ملک کے سب سے خطرناک نیٹ ورک کے ایک اہم کارندے کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کے قبضے سے سینکڑوں پورن ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں، جس نے حکام اور والدین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم تیمور محمود انتہائی شاطرانہ طریقے سے بچوں کو اپنا نشانہ بناتا تھا۔ تحقیقات میں ہوشربا حقائق منظرعام پرآگئے
ملزم سوشل میڈیا پر لڑکی بن کر کمسن بچوں سے دوستی کرتا اور انہیں ورغلاتا تھا۔
بچوں کی نازیبا ویڈیوز حاصل کرنے کے بعد وہ انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل کرتا تھا۔
ملزم نے اب تک متعدد بچوں اور ان کے خاندانوں سے بلیک میلنگ کے ذریعے بھاری رقوم بٹوری ہیں۔
ایجنسی نے ملزم کے قبضے سے 600 سے زائد بچوں کی نازیبا ویڈیوز اور دیگر ڈیجیٹل مواد برآمد کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مواد نہ صرف مقامی سطح پر استعمال ہو رہا تھا بلکہ اس کے ڈارک ویب (Dark Web) سے روابط کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ بین الاقوامی نیٹ ورک تک پہنچا جا سکے۔
ملزم تیمور محمود کے خلاف پیکا ایکٹ (PECA Act) کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ این سی سی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم گینگ ہے اور گرفتار ملزم سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں مزید گرفتاریوں کا قوی امکان ہے۔
بچوں کے استحصال کا بھیانک کاروبار: اسلام آباد میں ڈارک ویب سے منسلک بڑا نیٹ ورک بے نقاب، 600 سے زائد ویڈیوز برآمد

