بھکر :(رپورٹ ملک سمیع اللہ)
بھکر کے علاقے کلورکوٹ میں سی سی ڈی پولیس کے ساتھ ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے کے دوران تین سالہ معصوم بچی مہک زہرہ گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی، جبکہ سی سی ڈی کے دو افسران انسپکٹر عبدالستار عاطف اور انسپکٹر عثمان سلطان زخمی ہو گئے۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ سرکل انچارج سی سی ڈی انسپکٹر عبدالستار عاطف کو تشویشناک حالت کے باعث لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق کارروائی اشتہاری ملزم افتخار ممتاز کی گرفتاری کے لیے کی گئی، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے خضر حیات چنگڑ کی اہلیہ سونیا پروین سے تعلقات تھے اور وہ اکثر اسے ملنے آتا تھا۔ پولیس نے مبینہ طور پر سونیا پروین سے رابطہ کر کے ملزم کو گھر بلوانے کا کہا۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ رات افتخار ممتاز اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ سونیا پروین کے گھر پہنچا، جہاں سی سی ڈی پولیس نے اچانک چھاپہ مارا۔ اس دوران دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کی زد میں آ کر تین سالہ بچی مہک زہرہ موقع پر ہی دم توڑ گئی، جبکہ دو پولیس افسران زخمی ہو گئے۔ فائرنگ کے بعد ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق سونیا پروین نے بیان دیا ہے کہ چھاپے کے دوران ملزمان کو اس پر مخبری کا شبہ ہوا، جس پر افتخار ممتاز نے غصے میں آ کر اس کی بیٹی مہک زہرہ پر فائرنگ کی، جبکہ وہ خود جان بچا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ ڈی پی او بھکر ایس ایس پی شہزاد رفیق نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید رنج و غم کی فضا ہے، جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد اس اندوہناک واقعے پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کر رہی ہے۔ تین سالہ مہک زہرہ کی ہلاکت نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ عوام اور لواحقین کی نظریں اب بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات پر مرکوز ہیں، جو اس بات کا تعین کریں گی کہ اس معصوم جان کے ضیاع کا اصل ذمہ دار کون ہے۔


