لاہور(رپورٹ ملک ظہیر)
لاہور کے سانحہ بھاٹی گیٹ نے جہاں نظام کی سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کیا، وہیں ایک اور لمحۂ فکریہ اس وقت سامنے آیا جب گرفتار پانچ ملزمان کو عدالت میں پیشی کے بعد واپس لے جانے والی پنجاب پولیس کی گاڑی راستے میں اچانک بند ہو گئی۔
عینی شاہدین اور ویڈیو کو میں دیکھا جا سکتا ہے پولیس اہلکار ملزمان سے بھری سرکاری گاڑی کو دھکے لگاتے رہے، جبکہ راہگیر یہ منظر حیرت اور تشویش سے دیکھتے رہے۔ یہ واقعہ نہ صرف پولیس کی لاجسٹک تیاری پر سوالیہ نشان ہے بلکہ سکیورٹی کے سنگین خدشات کو بھی جنم دیتا ہے۔ ایسے وقت میں جب ایک سنگین سانحے کی تفتیش جاری ہے، ملزمان کی منتقلی کے دوران سرکاری گاڑی کا اس حالت میں ہونا انتظامی غفلت کی واضح مثال قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ جاتا تو اس کی ذمہ داری کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا۔ یہ واقعہ پنجاب پولیس کے انفراسٹرکچر، گاڑیوں کی حالت اور آپریشنل تیاری پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے، جس پر اعلیٰ حکام کی فوری توجہ اور عملی اقدامات ناگزیر قرار دیے جا رہے ہیں۔


