Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      جنگ،قطری فضائی حدود بند: قطر ایئرویز نے دوحہ آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل کر دیں

      ایپل سے بھی مہنگا،سام سنگ نے اسمارٹ فون گلیکسی ایس 26 لانچ کردیا ،جدید فیچرز شامل

      125 سی سی سے بڑی بائیک پر پابندی ، والد کا حلف نامہ لازمی: 16 سالہ کم عمر نوجوانوں کے لائسنس کا اجرا

      آئی ایم ایف سے قرض کی بھیک اور وزراء ،بیوروکریٹس کے لیے اربوں کی شاہ خرچیاں،پنجاب حکومت کا پرتعیش گاڑیوں کی خریداری کیلئے1 ارب 14 کروڑ مختص

      یو اے ای اور عراق کا ترکی تک ڈیٹا کیبل بچھانے کا اعلان

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      ابوظہبی ، ایرانی میزائل حملے کے بعد خوف وہراس،ایک ہلاک، شہری پناہ لینے پر مجبور

      بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان کی مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات

      شمالی وزیرستان کی ‘ننھی سپن سٹار’ نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

      شیخ محمد بن زاید کی ہیلی کاپٹر اڑانے کی ویڈیو وائرل، تمام افواہیں دم توڑ گئیں

      پاکستان کا جدید ترین مواصلاتی سیٹلائٹ چین میں لانچنگ سائٹ کی طرف روانہ

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ریاستی مفاد مقدم: CSS امتحان کی عمر اور Attempts میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ریاستی ادارے وقتی دباؤ، سفارشات اور جذباتی مطالبات کے بجائے قانون، قواعد اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہیں۔ CSS امتحان کی بالائی عمر کی حد 35 سال کرنے اور کوششوں کی تعداد 5 تک بڑھانے کے لیے بعض بااثر حلقوں کی جانب سے حکومت کو بھجوائی گئی تجاویز کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا گیا ہے، یوں اس معاملے میں راہ ہموار کرنے کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔
    دستاویزی ریکارڈ کے مطابق CSS امتحان، CSS Rules 2019 کے تحت منعقد ہوتا ہے جو کابینہ سے باقاعدہ منظور شدہ ہیں۔ ان قواعد میں عمر کی حد اور کوششوں کی تعداد واضح طور پر درج ہے اور کسی دوسرے قانون یا انتظامی بنیاد پر مزید نرمی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ موجودہ پالیسی کے تحت عام امیدوار کے لیے عمر کی حد 21 سے 30 سال جبکہ مخصوص زمروں کو صرف 2 سال کی رعایت دی گئی ہے، جو تقریباً وہی معیار ہے جو صوبائی PMS امتحانات میں بھی نافذ ہے۔
    فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اپنے 174ویں اجلاس میں تجرباتی اور شماریاتی ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ موجودہ پالیسی نہ صرف متوازن ہے بلکہ قومی انسانی وسائل، امتحان کے معیار اور ادارہ جاتی کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ کمیشن کے مطابق عمر کی حد میں اضافہ تربیتی عمل اور بیچ کے اندر ہم آہنگی کے لیے سنجیدہ مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
    دستاویز میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر عمر کی حد 35 سال تک بڑھائی گئی تو CTP میں 22 سے 35 سال تک کا وسیع عمرانی فرق پیدا ہو جائے گا، جس سے ٹیم ورک، نظم و ضبط اور ادارہ جاتی ہم آہنگی متاثر ہوگی۔ بڑی عمر کے ٹرینی افسران میں نئی سوچ اور تربیتی اقدار کو قبول کرنے میں لچک کم پائی جاتی ہے جبکہ خاندانی ذمہ داریوں کے باعث سخت تربیت اور فیلڈ پوسٹنگ ان کے لیے عملی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔
    ریاستی مفاد کے نقطۂ نظر سے بھی یہ تجویز نقصان دہ قرار دی گئی ہے۔ اگر کوئی امیدوار 35 سال کی عمر میں منتخب ہوتا ہے تو وہ عملی سروس تقریباً 37 سال میں شروع کرے گا اور 60 سال کی ریٹائرمنٹ تک 25 سال کی مکمل سروس بھی فراہم نہیں کر پائے گا۔ اس صورت میں ریاست کی تربیت پر کی گئی سرمایہ کاری کا فائدہ محدود ہو جاتا ہے اور طویل المدتی قیادت کا تسلسل متاثر ہوتا ہے۔
    تاریخی اعداد و شمار کے مطابق 1948 سے اب تک عمر کی حد مختلف ادوار میں 21 تا 25، 21 تا 28 اور 21 تا 30 سال رہی ہے۔ 1990 کی دہائی میں زیادہ عمر کی نرمی کے تجربات کے نتیجے میں تربیتی مسائل اور بیچ کے اندر ہم آہنگی کی کمی سامنے آئی۔ دستیاب ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ 65 فیصد کامیاب امیدوار 23 سے 27 سال کی عمر کے ہوتے ہیں، جبکہ 30 سال سے زائد عمر کے امیدواروں کی کامیابی اور گروپ الاٹمنٹ کی شرح نہایت کم، محض 0.01 فیصد سے 0.08 فیصد کے درمیان رہی ہے۔
    دستاویز میں خبردار کیا گیا ہے کہ عمر اور کوششوں میں اضافہ امیدواروں کو اپنی قیمتی عمر بار بار امتحان کی تیاری میں ضائع کرنے پر آمادہ کرے گا، مالی طور پر مضبوط طبقہ طویل تیاری کا فائدہ اٹھائے گا اور یوں مساوی مواقع اور انصاف کا اصول متاثر ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاست کو اعلیٰ کارکردگی کے وہ سال بھی کم میسر آئیں گے جو نوجوان افسران سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
    نتیجتاً، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور FPSC کے تجزیے کے مطابق CSS کی موجودہ عمر کی حد اور کوششوں کی تعداد موزوں، متوازن اور ریاستی مفاد کے عین مطابق ہے، اسی لیے اس میں کسی قسم کے اضافے کی سفارش نہیں کی گئی

    Related Posts

    تھانہ کلچر کی تبدیلی یا محض دعوے؟ محرر غازی آباد کی آڈیو لیک نے لاہور پولیس کے اندرونی تضادات کا بھانڈا پھوڑ دیا

    خامنہ ای کی شہادت پر پاکستان میں احتجاج، امریکی قونصل خانے پر حملے کے دوران 10 افراد جاں بحق

    پاک افغان سرحدی کشیدگی: پنجاب بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ، غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف فیصلہ کن کریک ڈاؤن کا حکم

    مقبول خبریں

    آیت اللہ خامنائی کو کیسے شہید کیا گیا؟ نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    خامنہ ای کی شہادت: وہ کون تھا؟ جائے وقوعہ پر موجود ‘اسرائیلی ایجنٹ’ کے حوالے سے سنسنی خیز انکشاف

    شہادت کے بعد اقتدار کی منتقلی کا عمل شروع؛ علی لاریجانی نئے رہبر کے مضبوط ترین امیدوار، نامزد جانشین مجتبیٰ خامنہ ای بھی حملے میں جاں بحق

    ایران پر قیامت ٹوٹ پڑی: رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اہلخانہ سمیت شہید، عالمِ اسلام سوگوار

    ٹی20 ورلڈ کپ: صاحبزادہ فرحان نے وراٹ کوہلی کا 12 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا

    بلاگ

    ملکیت کا دفاع یا طاقت کا استعمال؟ پنجاب میں نیا قانونی موڑ

    ”افغانستان میں پاک فضائیہ کی کارروائی کارروائی“ میاں حبیب کا کالم

    غیر قانونی قبضے کالعدم، شہری ملکیتی حقوق کو آئینی تحفظ

    پولیس اصلاحات: عملی احتساب یا محض کاغذی کارروائی؟

    ’’وکلاء انصاف کے متلاشی’’

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.