واشنگٹن ڈی سی :امریکی سینیٹ نے ایران میں امریکی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی قرارداد مسترد کر دی ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا جنگ ختم ہوچکی ہے۔
معروف ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈم شِف کی جانب سے پیش کیے گئے وار پاورز بل کو 47 ووٹ ملے جبکہ اس کی مخالفت میں 50 ووٹ پڑے۔ یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ سینیٹ نے اس طرز کے بل کو مسترد کیا ہے۔
پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے جان فیٹر مین واحد ڈیموکریٹ رکن تھے جنھوں نے اس بل کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ دو ری پبلکن سینیٹرز، سوزن کولنز اور رینڈ پال نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ سوزن کولنز نے اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’جیسا کہ میں ایران کے تنازع کے آغاز سے کہتی آ رہی ہوں، بطور کمانڈر اِن چیف صدر کے اختیارات لامحدود نہیں ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق کانگریس کا جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں ایک اہم کردار ہے۔ کولنز کا کہنا ہے کہ وار پاورز کے تحت غیر ملکی تنازعات میں امریکا کی شمولیت کی منظوری یا خاتمے کے لیے 60 روز کے اندر کانگریس سے منظوری لازمی ہے۔
سوزن کولنز نے اس بات پر زور دیا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی مزید فوجی کارروائی کے لیے واضح مشن، قابلِ حصول اہداف اور تنازع کے خاتمے کی صاف حکمتِ عملی ہونا ضروری ہے۔ میں نے اس وضاحت کے سامنے آنے تک عارضی طور پر ان فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔‘
دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئیر عہدیدار نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی ختم ہو چکی ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وار پاورز سے متعلق کانگریس کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہو رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کے پاس جمعے تک کا وقت ہے کہ وہ یا تو ایران کے ساتھ جنگ ختم کریں یا پھر اسے جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے رجوع کریں اور اس جنگ کی وجوہات پیش کریں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اس عہدیدار نے انتظامیہ کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’وار پاورز ایکٹ کے حوالے سے 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی ختم ہو چکی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے امریکی اور ایرانی مسلح افواج کے درمیان کسی قسم کی لڑائی نہیں ہوئی ہے۔
1973 کے قانون کے تحت صدر کو یہ اجازت حاصل ہے کہ وہ کانگریس سے اجازت حاصل کیے بغیر 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم اس کے بعد یا تو اسے ختم کرنا ہو گا یا پھر مسلح افواج کی سلامتی کے لیے ’فوری فوجی ضرورت‘ کی بنیاد پر کانگریس سے اجازت یا 30 دن کی توسیع طلب کرنا ہو گی۔

