لاہور( بے نقاب رپورٹ ) پنجاب کے ایک دیہی علاقے میں پیش آنے والا یہ واقعہ بظاہر ایک فرد یا ایک خاندان تک محدود دکھائی دیتا ہے، مگر گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ طاقت، خاموشی اور انصاف کے اس خلا کی عکاسی کرتا ہے جو کئی دیہی معاشروں میں برسوں سے موجود ہے۔ یہ کہانی کسی ایک الزام یا ایک ردِعمل کی نہیں، بلکہ اس نظام کی ہے جہاں اثر و رسوخ قانون پر غالب آ جاتا ہے اور کمزور کی آواز دب جاتی ہے۔ تحقیق کے مطابق، متعلقہ گاؤں میں ایک چوہدری غیر معمولی سماجی اور سیاسی طاقت کا حامل تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس کے ماتحت اہلکاروں کی اس کے ڈیرے پر آمد و رفت معمول کی بات تھی۔ ایسے ماحول میں عام شہری، خاص طور پر غریب خواتین، انصاف کے رسمی راستوں کو اکثر اپنے لیے مزید خطرہ سمجھتی ہیں۔ اسی گاؤں کی ایک خاتون، جسے یہاں ثریا (فرضی نام) کہا جا رہا ہے، ایک غریب ماہی گیر خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی زندگی معاشی تنگی، سماجی کمزوری اور عدم تحفظ کے سائے میں گزرتی تھی۔ ثریا کے مطابق، ایک موقع پر چوہدری نے مبینہ طور پر اپنی حیثیت اور طاقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس کے بعد سب سے کٹھن مرحلہ شروع ہوا فیصلہ کہ بولنا ہے یا خاموش رہنا ہے۔ قریبی ذرائع کے مطابق، ثریا کو یقین تھا کہ اگر وہ پولیس یا عدالت کا رخ کرے گی تو ثبوت، گواہ اور سماجی دباؤ سب اس کے خلاف ہوں گے۔ دیہی معاشروں میں عزت اور بدنامی کا تصور اکثر متاثرہ فرد ہی کے گرد گھومتا ہے، اور یہی خوف خاموشی کو مجبوری بنا دیتا ہے۔ اسی لیے اس نے قانونی چارہ جوئی کے بجائے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ثریا نے آہستہ آہستہ چوہدری کی اہلیہ کے قریب ہونے کی کوشش کی۔ گھریلو کاموں میں مدد، خوشامد اور وقت کے ساتھ اعتماد سازی کے ذریعے وہ گھر کے اندرونی معاملات سے واقف ہونے لگی۔ گاؤں کی خواتین میں اس کی رسائی بڑھی اور وہ سماجی روابط کے اس جال کو سمجھنے لگی جو اکثر طاقتور طبقے کے گرد بنا ہوتا ہے۔ اسی دوران اس نے گاؤں کے ایک سنار سے چوہدری کی اہلیہ کی دوستی کروانے میں کردار ادا کیا۔ ابتدا میں یہ تعلق سادہ میل جول تک محدود تھا، مگر دیہی معاشروں میں غیر رسمی تعلقات جلد ہی گفتگو کا موضوع بن جاتے ہیں۔ خواتین کی محفلوں میں سرگوشیاں شروع ہوئیں اور باتیں محدود دائرے سے نکل کر آس پاس کے دیہات تک پھیلنے لگیں۔ کچھ عرصے بعد چوہدری کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ وقت گزرتا گیا اور جیسے جیسے بچہ بڑا ہونے لگا، گاؤں کی خواتین نے اس کی مشابہت سنار سے جوڑنا شروع کر دی۔ ابتدا میں یہ باتیں قیاس آرائیاں سمجھی گئیں، مگر رفتہ رفتہ ایک سوال میں بدل گئیں۔ تحقیق کے مطابق، یہ سرگوشیاں پہلے خواتین کی محفلوں تک محدود رہیں، پھر مردوں اور دیگر دیہات تک بھی پہنچ گئیں۔
آخرکار یہ باتیں خود چوہدری تک بھی پہنچ گئیں۔ مقامی افراد کے مطابق، وہ آج تک اس الجھن میں مبتلا ہے کہ اس کے بیٹے کی شکل ایک قریبی دوست سے کیوں ملتی ہے۔ یہ معاملہ محض ایک ذاتی سوال نہیں رہا تھا بلکہ اس سماجی ساکھ پر سوال بن چکا تھا جو برسوں سے طاقت اور اثر و رسوخ کے ذریعے قائم کی گئی تھی۔ تحقیق کے دوران گاؤں کے بزرگوں نے بتایا کہ اسی چوہدری کے بھانجے نے بھی مبینہ طور پر اسی طرزِ عمل کو اپنایا۔ بعد ازاں اسے بھی ایسے ہی سماجی نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی سطح پر اسے محض اتفاق نہیں بلکہ ایک طرح کا غیر رسمی احتساب قرار دیا گیا ایسا احتساب جو عدالت کے فیصلے کی صورت میں نہیں، مگر سماج کے ضمیر میں ثبت ہو جاتا ہے۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جب ریاستی انصاف کمزور پڑ جائے تو معاشرہ خود ردِعمل پیدا کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ردِعمل قانونی یا مثالی نہیں ہوتا، مگر یہ اس خلا کو نمایاں کر دیتا ہے جو کمزور طبقات، خصوصاً خواتین، کے لیے انصاف کی راہ میں حائل ہے۔ گو کے موجودہ دور میں اب حالات مختلف ہیں اب سوشل میڈیا کے زریعے دیہاتوں میں بھی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے
خاموش ظلم، بلند سوالات، پنجاب کے ایک گاؤں سے ماموں بھانجے کے مظالم پر تحقیقاتی رپورٹ

