Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    تعلیمی اداروں میں پنپتا ہوا مافیا اور اقربا پروری؛ یونیورسٹی آف ایجوکیشن ڈکیتی ایک لمحہ فکریہ،کمپیوٹرز تو مل گئے، مگر علم گاہوں کا لٹا ہوا اعتماد کیسے بحال ہوگا؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    لاہور کے تعلیمی ادارے، جو علم، تحقیق اور کردار سازی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، اب سوالیہ نشان بنتے جا رہے ہیں یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں ہونے والی حالیہ بڑی ڈکیتی نے نہ صرف سیکیورٹی نظام کی قلعی کھول دی بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ اصل مسئلہ ڈاکو نہیں، بلکہ وہ ہاتھ ہیں جو پردے کے پیچھے رہ کر سب کچھ کنٹرول کر رہے ہیں۔
    یہ امر چونکا دینے والا ہے کہ سی سی ڈی (Crime Control Department) کے خوف سے بڑے بڑے کریمنلز وارداتیں چھوڑ گئے، مگر یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں سات مسلح افراد بلاخوف و خطر گارڈز کو یرغمال بنا کر دروازے کھلوانے میں کامیاب ہو گئے، لیب اور اسٹورز لوٹے گئے اور قیمتی 70 کمپیوٹرز دو رکشوں پر لوڈ کر کے فرار ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ یہ جرات کہاں سے آئی؟ اور واردات کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے؟ ذرائع کے مطابق اس ڈکیتی کے تانے بانے کیا یونیورسٹی کے اندرونی انتظامی جھگڑوں سے جا ملتے ہیں ؟ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی میں سرگرم ایک منظم مافیا ایک پروفیسر کو عہدے سے ہٹانے کا خواہشمند ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں چند ماہ قبل، ملزم عثمان کی ڈیوٹی کے دوران اسٹور سے دو درجن سے زائد کمپیوٹر سسٹم چوری ہو گئے تھے۔ جب معاملہ سامنے آیا تو ایک پروفیسر کو اشارہ دیا گیا مگر ان کا واضح مؤقف تھا وہ چوکیدار نہیں، ذمہ داری سیکیورٹی کی ہے۔ اس کے بعد بننے والی انکوائری کمیٹی نے حیران کن طور پر چوری کو دبایا اور گارڈ عثمان کا تبادلہ کر دیا۔ مزید انکشاف یہ ہے کہ گارڈ عثمان کی 2 قریبی رشتے دار بھی اسی یونیورسٹی میں ملازم ہیں، اور اسی تعلق داری نے معاملے کو فائلوں میں دفن کر دیا، حالانکہ پولیس اس وقت بھی ملزمان کو گرفتار کر سکتی تھی۔ اب دوسری بار منصوبہ زیادہ بڑا تھا۔ سات مسلح افراد، مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ، گارڈز کو یرغمال بنا کر اندر داخل ہوئے۔ انہیں علم تھا کہ یونیورسٹی گیٹ پر سیف سٹی کیمرے نصب ہیں، مگر وہ بے فکر تھے، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ پہلے کی طرح اس بار بھی ایک انکوائری ہو گی، کسی افسر یا پروفیسر کو نشانہ بنایا جائے گا اور اصل کردار محفوظ رہیں گے۔ مگر اس بار کھیل بگڑ گیا۔ واردات کے فوراً بعد ایک سیکیورٹی گارڈ نے ہمت کر کے پولیس ایمرجنسی 15 پر کال کر دی۔ یونیورسٹی انتظامیہ سے پہلے پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

    مشکوک رویے پر سیکیورٹی گارڈز کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا گیا جہاں ان سے روایتی تفتیش کی گئی، جبکہ دوسری جانب پولیس کی خصوصی ٹیموں نے فنگر پرنٹس اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانا شروع کر دیا۔ سیف سٹی کیمروں میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ ملزمان رکشوں پر مال لے کر فرار ہو رہے ہیں۔ پولیس نے تعاقب کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا اور تمام 70 کمپیوٹرز برآمد کر لیے۔ تفتیش کے دوران ملزمان نے مزید تہلکہ خیز انکشاف کیا کہ شفیق آباد پولیس نے جب انہیں روکا تو رشوت دے کر جان چھڑائی گئی اور وہ اپنے طے شدہ ٹھکانے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
    اب جبکہ ڈکیتی کے ملزمان پکڑے جا چکے ہیں، اصل سوال بدستور کھڑا ہے
    یونیورسٹی کے اندر موجود سہولت کار کون ہیں؟
    کون بار بار چوریوں کو دبا رہا ہے؟ اور کن چہروں کو بچانے کے لیے انکوائریوں کو ہتھیار بنایا جاتا رہا؟
    یہ واقعہ صرف ایک ڈکیتی نہیں، بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں میں پنپتے ہوئے مافیا، اقربا پروری اور مجرمانہ خاموشی کا پردہ چاک کرنے والا ثبوت ہے۔
    اگر اب بھی اصل کرداروں کو بے نقاب نہ کیا گیا تو سوال صرف کمپیوٹرز کا نہیں رہے گا، بلکہ علم گاہوں کے اندر دفن ہوتے اعتماد کا ہوگا۔

    Related Posts

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے راہزن ہلاک

    جلال پور پیر والا: موٹرسائیکل کو بچا تے ہوئے گاڑی  نہر میں جا گيری

    مقبول خبریں

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.