تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
لاہور میں ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران کی حالیہ دنوں جاری سخت اور بے لاگ احتسابی مہم کے بعد یہ امید جاگ اٹھی تھی کہ شاید اب آپریشن ونگ کے افسران اور اہلکار واقعی توبہ کر چکے ہیں، شاید رشوت، سفارش اور ڈیل کا وہ سیاہ باب بند ہو چکا ہے جس نے عوام کے اعتماد کو لہولہان کر رکھا تھا۔ چوروں اور ڈاکوؤں کے خلاف استعمال ہونے والا سخت ہاتھ جب راشی افسروں پر پڑا تو کئی چہروں کے رنگ فق ہو گئے، کئی ضمیر جاگ اٹھے، مگر شفیق آباد سرکل میں پیش آنے والے ایک اور واقعے نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت عیاں کر دی کہ عادتیں وردی بدل لینے سے نہیں جاتیں، اور ضمیر اگر مر جائے تو قانون بھی بے بس ہو جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق داتا دربار کے قریب یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے ملازم وسیم نے اپنے عثمان وغیرہ کو بلا کر یونیورسٹی کے کمپیوٹر اور دیگر سامان رکشے میں لوڈ کر کے فرار لرا دیا ۔ بتی چوک پر محافظ اسکواڈ شفیق آباد نے رکشہ روک کر تلاشی لی تو ملزمان نے ہمیشہ کی طرح نان کسٹم مال کا سہارا لے لیا، گویا یہ جملہ اب قانون کو خاموش کرانے کا پاس ورڈ بن چکا ہو۔ معاملہ طول پکڑا تو اے ایس آئی عظیم کو موقع پر بلا لیا گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں قانون کو وردی نے روند ڈالا، اور انصاف ایک بار پھر سسکیاں لیتا رہ گیا۔ اے ایس آئی عظیم نے ضمیر کے بجائے جیب کا انتخاب کیا، دوست کے ذریعے ڈیل طے کی اور ڈیڑھ لاکھ روپے رشوت وصول کر کے قانون کو بیچ دیا۔ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ اے ایس آئی عظیم نے اپنے باس کو اطلاع دی کہ نان کسٹم مال پکڑا گیا ہے اور ملزمان ڈیڑھ لاکھ دینے کو تیار ہیں۔ پہلے “اوکے” کا اشارہ ملا، پھر اچانک پیچھے ہٹنے کا پیغام آیا۔ مگر تب تک دیر ہو چکی تھی، کیونکہ پیسے وصول ہو چکے تھے اور لالچ اپنے پنجے گاڑ چکا تھا۔ یہیں سے کہانی طنز سے نکل کر عبرت اور المیے میں بدل جاتی ہے۔ گھبراہٹ، خوف اور بے بسی کے عالم میں اے ایس آئی عظیم تھانے پہنچا اور سفارشی کو فون ملایا، مگر زبان پر قابو نہ رکھ سکا اور غصے میں کہہ بیٹھا باس اب وزن نہیں اٹھا رہا، چولیں مار رہا ہے اگلے ہی لمحے فون کے دوسری طرف سے سوال آیا فون کس کو کیا ہے؟
اسی ایک سوال نے زمین کھینچ لی۔ اے ایس آئی عظیم کے ہوش اڑ گئے، کیونکہ فون سفارشی کے بجائے براہِ راست باس کو لگ چکا تھا۔ صفائیاں دی گئیں، جواز تراشے گئے، مگر سچ اپنی آواز خود بن چکا تھا اور بات اعلیٰ افسران تک پہنچ چکی تھی۔
ادھر داتا دربار پولیس نے فرض شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے شاہدرہ سے ملزمان کو مالِ مقدمہ سمیت گرفتار کر لیا۔ دورانِ تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے شفیق آباد پولیس کو 8 لاکھ روپے دے کر جان چھڑائی تھی ایک ایسا انکشاف جو پورے نظام کے منہ پر طمانچہ تھا۔ پولیس نے رشوت کے ذریعے ملزمان کو چھڑانے والے ساندہ کے فیصل کو بھی گرفتار کر لیا، جس نے بتایا کہ بات واقعی 8 لاکھ کی تھی، تاہم اے ایس آئی عظیم کو ڈیڑھ لاکھ روپے دیے گئے۔ اعلیٰ افسران کے حکم پر اے ایس آئی عظیم کو گرفتار کر کے پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ایک اعلیٰ پولیس افسر نے ویڈیو کال پر وہ منظر دیکھا جس میں اے ایس آئی عظیم وہی سلوک سہہ رہا تھا جو پولیس روز چوروں اور ڈاکوؤں کے ساتھ کرتی ہے۔
یہ منظر صرف ایک فرد کی تذلیل نہیں تھا، یہ اس نظام کے لیے ایک آئینہ تھا جس میں سچ صاف دکھائی دے رہا تھا۔
بالآخر اے ایس آئی عظیم کے خلاف رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، جبکہ محکمانہ انکوائری بھی شروع کر دی گئی۔ یہ واقعہ لاہور پولیس ہی نہیں، پورے نظام کے لیے ایک کڑا اور واضح پیغام ہے کہ احتساب صرف بیانات سے نہیں، کردار اور مثال سے ہوتا ہے۔اور جب وردی خود کو قانون سے بالا سمجھے، تو پھر انجام وہی ہوتا ہے



