اسلام آباد :وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کے خلاف دائر اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیتے ہوئے درخواستیں مسترد کر دیں اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت عائد سپر ٹیکس کو برقرار رکھا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا جس کے مطابق عدالت نے کیس کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق تمام اعتراضات بھی مسترد کر دیے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کا سیکشن 4 بی سن 2015 سے نافذ العمل رہے گا۔ جبکہ ہائیکورٹس کی جانب سے سیکشن 4سی کے حوالے سے دئیے گئے فیصلے کالعدم قرار دئیے گئے ہیں
عدالت نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ کو آئین کے تحت آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس حسن رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل بینچ نے کی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئل اینڈ گیس سیکٹر میں اگر کسی کی انفرادی طور پر رعایت بنتی ہے وہ متعلقہ فورم سے رجوع کرے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مضاربہ، میوچل فنڈز، اور بینولیٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔
مختلف سیکٹرز سے متعلق الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی، وفاقی حکومت کو فیصلے سے 3 سو ارب سے زائد کا فائدہ ہو گا۔
تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

