واشنگٹن : امریکاکے وسیع رقبے پر پھیلا ایک تباہ کن اور بھیانک برفانی طوفان نظامِ زندگی کو مفلوج کر چکا ہے۔ نیو میکسیکو سے لے کر نیو انگلینڈ تک پھیلی اس قدرتی آفت نے ملک کی تقریباً 40 فیصد آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث 18 ریاستوں میں ہنگامی حالت (Emergency) نافذ کر دی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کے ہنگامی اقدامات
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک درجن ریاستوں کے لیے وفاقی امداد اور ایمرجنسی کے اعلانات کی منظوری دے دی ہے۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم کے مطابق فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی (FEMA) کی ٹیمیں، تلاش اور بچاؤ کے دستے اور ضروری سامان متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دیا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں سے التجا کی ہے کہ وہ "سمجھداری کا مظاہرہ کریں” اور بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
نظامِ زندگی درہم برہم: پروازیں منسوخ، بجلی غائب
برفانی طوفان نے سفری اور بجلی کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے:
ہوائی سفر: ملک بھر میں اب تک 13,000 سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں، جس میں اوکلاہوما سٹی کا ایئرپورٹ مکمل طور پر بند رہا۔
بجلی کا بریک ڈاؤن: شدید برفباری اور درخت گرنے سے ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہیں۔ ٹیکساس اور لوزیانا میں بجلی کا نظام سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
نیشنل گارڈز: 9 ریاستوں میں نیشنل گارڈز کو سول انتظامیہ کی مدد کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔
نیشنل ویدر سروس نے انتباہ جاری کیا ہے کہ ہفتہ سے پیر تک راکی سے لے کر نیو انگلینڈ تک شدید برفباری، تیز ہواؤں اور جمادینے والی بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ماہر موسمیات ایلیسن سنٹوریلی کا کہنا ہے کہ یہ برف جلد پگھلنے والی نہیں ہے، جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نیویارک سمیت کئی بڑے شہروں کے میئرز نے ہائی الرٹ جاری کر رکھا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھروں میں رہیں تاکہ سڑکوں پر پھنسنے سے بچا جا سکے۔ وفاقی اور ریاستی ادارے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔

