کابل :(نیٹ نیوز) افغان دارالحکومت کابل کے علاقے شہرِ نو میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ طالبان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات میں جانی نقصان کی تصدیق ہوئی ہے، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
شہرِ نو کابل کا وہ علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں غیر ملکیوں کی رہائش، سفارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ افراد کی آمدورفت رہتی ہے، اسی وجہ سے اسے نسبتاً محفوظ تصور کیا جاتا رہا ہے۔ ایسے حساس علاقے میں دھماکا سیکیورٹی انتظامات پر سوالات کھڑے کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ کابل میں خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم ماضی کے واقعات کی روشنی میں مبصرین چند امکانات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق داعش خراسان ماضی میں بھی کابل میں اسی نوعیت کی کارروائیاں کرتی رہی ہے، جن کا مقصد طالبان حکومت کو غیر مستحکم دکھانا اور خوف و ہراس پھیلانا ہوتا ہے۔ بعض تجزیہ کار طالبان مخالف مقامی یا ناراض عناصر کے کردار کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیتے، جو دباؤ بڑھانے کے لیے ایسی کارروائیوں کا سہارا لے سکتے ہیں۔
اس حملے سے سب سے زیادہ فائدہ اُن قوتوں کو ہو سکتا ہے جو افغانستان میں عدم استحکام چاہتی ہیں۔ سیکیورٹی کی بگڑتی صورتحال سے نہ صرف طالبان حکومت کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری، سفارتی روابط اور بین الاقوامی اعتماد بھی مزید کمزور ہو سکتا ہے۔ ایسے واقعات عالمی سطح پر یہ تاثر تقویت دیتے ہیں کہ افغانستان اب بھی ایک غیر محفوظ ملک ہے۔
واقعہ طالبان حکومت کے لیے محض ایک سیکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ امن و استحکام کے دعوؤں کا عملی امتحان بھی ہے۔ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ تحقیقات کس سمت جاتی ہیں اور آیا ذمہ داروں کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے گا یا نہیں۔

