اسلام آباد :وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتشار پھیلایا تو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت کارروائی ہو گی۔
غیرملکی ویب سائٹ انڈیپینڈنٹ اردو کو انٹرویو میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ جلاؤ گھیراؤ کرنے یا انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت ایکشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کوئی یہ سوچے بھی نہ کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔
یادرہےپاکستان تحریک انصاف نے اگست 2023 سے پابند سلاسل بانی چئیرمین عمران خان کی ہدایت پر 8 فروری سے ملک میں سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہاکہ قانون کے مطابق آتے ہیں تو 100 مرتبہ احتجاج کریں، لیکن اگر انہوں نے نظام زندگی کو مفلوج کرنے، جلاؤ گھیراؤ کرنے یا انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت ایکشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کوئی یہ سوچے بھی نا کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔
ان سے دریافت کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں رکاوٹ بننے کی صورت میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ ہو سکتا ہے؟
طلال چوہدری نے جواب میں کہا کہ گورنر راج ایک آئینی آپشن ضرور ہے، لیکن حکومت اس اختیار کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، صحت اور تعلیم جیسے سنگین مسائل موجود ہیں، مگر صوبائی قیادت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہی ہے۔
پی ٹی آئی پر پابندی سے متعلق سوال پر وزیر مملکت نے کہاکہ 26 نومبر، 9 مئی، اس کے بعد آئی ایم ایف کو خط لکھنا، پھر مسلسل پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والا بیانیہ، چاہے وہ انڈیا کا ہو یا اسرائیل کا، یا الفاظ کے فرق کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے ٹوئٹر (ایکس) اکاؤنٹ سے ہو، یہ سب انتہائی نامناسب اور دل دکھانے والی باتیں ہیں۔
تحریک انصاف نے 8 فروری کو انتشار پھیلایا تو 26 نومبر سے بھی سخت کارروائی ہوگی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری

