لاس اینجلس (نیوز ڈیسک): سوشل میڈیا پر معروف ڈیجیٹل جرنلسٹ اور میزبان ماریو نوافل کی ایکس پر پوسٹ نے ہلچل مچادی۔
ماریو نوافل کی پوسٹ کے مطابق امریکی فوج کا وہ طیارہ جو ایٹمی جنگ کی صورت میں حکومت کے آخری سہارے کے طور پر جانا جاتا ہے، 51 سال بعد پہلی بار لاس اینجلس کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ (LAX) پر نمودار ہوا ہے۔ باضابطہ طور پر E-4B Nightwatch کہلائے جانے والے اس طیارے کو دنیا بھر میں "ڈومز ڈے پلین” (Doomsday Plane) یا قیامت خیز طیارے کے نام سے جانا جاتا ہے۔
🇺🇸 TOP-SECRET U.S. MILITARY JET LANDS AT LAX FOR FIRST TIME IN 51 YEARS
The “Doomsday Plane,” officially called the E-4B Nightwatch, just landed at LAX. Its first-ever visit to a civilian airport.
Built to survive nuclear war and command the U.S. government from the sky, the… pic.twitter.com/7q1eYhaHbv
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) January 10, 2026
اڑتا ہوا ایٹمی بنکر: کیا ہے یہ طیارہ؟
یہ طیارہ کوئی عام جہاز نہیں بلکہ ایک اڑتا ہوا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر ہے۔ اسے خاص طور پر اس لیے بنایا گیا ہے کہ اگر زمین پر ایٹمی جنگ چھڑ جائے اور مواصلاتی نظام تباہ ہو جائے، تو امریکی صدر اور اعلیٰ حکام اس طیارے میں سوار ہو کر فضا سے ہی ملک کا نظام چلا سکیں۔
اس طیارے کی چند حیران کن خصوصیات:
-
ایٹمی مزاحمت: اس کا ڈھانچہ ایٹمی دھماکے کے بعد پیدا ہونے والی برقی لہروں (EMP) سے محفوظ رہنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
-
فضائی ری فیولنگ: یہ طیارہ فضا میں ہی ایندھن بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی بدولت یہ کئی دنوں تک مسلسل پرواز کر سکتا ہے۔
-
مواصلاتی نظام: اس میں دنیا کا جدید ترین سیٹلائٹ اور مواصلاتی نظام نصب ہے جو ہر حال میں فعال رہتا ہے۔
سویلین ایئرپورٹ پر آمد: ایک غیر معمولی واقعہ
تاریخ میں پہلی بار اس فوجی طیارے نے کسی سویلین ایئرپورٹ (LAX) پر لینڈنگ کی۔ یہ طیارہ جمعرات کو لاس اینجلس پہنچا اور جمعہ کو روانہ ہوا، جس کے پیچھے ایک C-17 گلوب ماسٹر طیارہ بھی دیکھا گیا۔ عام طور پر یہ طیارے انتہائی سخت سکیورٹی والے فوجی اڈوں پر خفیہ رکھے جاتے ہیں، لیکن 2026 میں اس کی اچانک سویلین طیاروں کے درمیان موجودگی نے "پلین اسپاٹرز” (طیاروں کے شوقین افراد) کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔
ہالی وڈ میں ایٹمی خوف کا احساس
ہالی وڈ کے قریب واقع اس ایئرپورٹ پر ایٹمی بنکر کی طرح کام کرنے والے طیارے کو کسی عام مہمان کی طرح کھڑا دیکھ کر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طیارے کی ایک سویلین ایئرپورٹ پر آمد محض ایک تربیتی مشق ہو سکتی ہے، لیکن اس کی ہیبت اور پراسراریت نے شہریوں کے دلوں میں تجسس پیدا کر دیا ہے۔

