Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    فتنتہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے،دہشت گرد تنظیموں کی پرورش کی جارہی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    راولپنڈی :پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ فتنتہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے، گز شتہ سال اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہوئی، پاکستان بار بار افغانستان کو سمجھاتا ہے کہ دہشت گردوں کو سنبھالیں لیکن جب بات نہ بنی تو پھر گھنٹوں میں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں مؤثر کارروائیاں کیں.
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو تفصیلی بریفنگ دی۔
    انہوں نے پریس کانفرنس کے آغاز میں گزشتہ سال 2025 میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے گئے، گزشتہ سال ملک میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 اور دیگر علاقوں میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے۔
    انہوں نے بتایا کہ 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے، ملک بھر میں دہشت گردی کے 5 ہزار 397 واقعات ہوئے جن میں 12 سو35 شہری و سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں،ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔
    انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی حکمت عملی اور آپریشنز کی بدولت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر ہوئی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی اس وقت پاکستان کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام تر توجہ اسی چیلنج پر مرکوز رکھی جائے۔ ان کے مطابق 2025 دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال ثابت ہوا، کیونکہ یہ جدوجہد دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری ہے اور اس میں پوری قوم نے قربانیاں دی ہیں۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گذشتہ سال انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں غیر معمولی شدت دیکھنے میں آئی، جب کہ ملک بھر میں 27 خودکش حملے بھی ریکارڈ کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ‘معرکۂ حق’ میں انڈیا کا منہ کالا کیا گیا اور اسے سبق سکھانا ناگزیر تھا۔’دنیا نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمیں جیتنی ہے، یہ جنگ ہم نے طاقت سے جیتنی ہے۔افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انکشاف کیا کہ حالیہ معلومات کے مطابق شام سے تقریباً اڑھائی ہزار دہشت گرد افغانستان منتقل ہو چکے ہیں، جن میں ایک بھی پاکستانی شامل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور تحریک طالبان پاکستان جیسے دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانے موجود ہیں، جو پورے خطے کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے وقت چھوڑا گیا جدید اسلحہ اب دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے، جس سے پاکستان سمیت پورے خطے میں سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا ہے اور دہشت گرد گروہوں کی عسکری صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے الزام عائد کیا کہ انڈیا خطے میں دہشت گرد گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں مالی وسائل، اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور یہ عمل علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔
    انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی میں سول بس، خضدار میں سکول بس، فیڈرل کانسٹیبلری اور ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ سکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس شامل ہیں۔ ان تمام واقعات میں افغان دہشت گرد ملوث پائے گئے، جبکہ پاک افغان سرحد پر سخت اقدامات کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھی گئی۔پریس کانفرنس کے دوران گرفتار دہشت گردوں کے بیانات بھی نشر کیے گئے جن میں انہوں نے افغانستان میں تربیت اور وہاں موجود نیٹ ورکس کے کردار کا اعتراف کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خوارج آرمڈ کواڈ کاپٹرز اور ڈرونز کے ذریعے حملے کرتے ہیں، مساجد، گھروں اور عوامی مقامات کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور بچوں و خواتین کو انسانی ڈھال بنایا جاتا ہے، تاہم پاک فوج صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے۔
    آخر میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو فوج کے کھاتے میں ڈالنے کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پوری قوم کی جنگ ہے اور اگر دہشت گردی کے ناسور کو بروقت ختم نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں سکولوں، بازاروں، دفاتر اور گلیوں میں حملے معمول بن سکتے ہیں، تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست، سکیورٹی ادارے اور عوام متحد ہیں اور اسی قومی یکجہتی سے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جیتی جائے گی۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔
    ان کا کہنا تھا اس سال پیغام پاکستان کا اعادہ کیا گیا۔ یہ کلیئرٹی علما اور مشائخ کو بھی ہے۔ دوسری کلیئرٹی ہندوستان اور فتنہ الخواج کے نیکسز کے بارے میں آئی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔
    انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشت گردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشت گردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا۔ ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’وزیر اعلیٰ فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے، یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے۔ یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں۔ وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے، کیا خارجی نور ولی محسوس کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے، اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انھوں نے اپنی جماعت کو ایک ڈکٹیٹر کی طرح چلایا، پوری جماعت اس ایک بندے کے گرد گھومتی تھی اور اس وقت پوری حکومت بھی ان کے گرد ہی گھومتی تھی۔’اس وقت بھی ان کو تھا کہ بات چیت کرو، بات چیت کرو اور وہ جس چیز کے پیچھے پڑ جاتا ہے، پڑ جاتا ہے۔ جو اس وقت ڈی جی آئی تھے، وہ اس وقت کدھر ہیں، جن کو انھوں نے اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا۔ آپ اسے ادارے پر نہیں لگا سکتے یہ شخصیات کا کھیل تھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان کا نام لیے بغیر ان کے دور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھئی وہ وزیراعظم تھا، وہ با اختیار وزیراعظم تھا۔ جو بعد میں کہتا ہے میرے پاس تو کوئی اختیار نہیں تھا۔ وہ اتنا با اختیار وزیراعظم تھا کہ اس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈیکلیئر کر دیا تھا۔ اتنا اختیار تو سنہ 1947 سے آج تک کسی وزیراعظم کے پاس نہیں تھا کہ وہ آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈیکلیئر کر دے۔ہمیں تو یہ ہی پتا ہے کہ قوم کا ایک ہی باپ ہے قائد اعظم محمد علی جناح، وہ عظیم شخصیت جس نے ملک بنایا۔ اور قوم کا ایک ہی شاعر ہے، علامہ اقبال اور ہم تو ان کو ہی پڑھ کر آئے تھے۔ یہ قوم کا ایک نیا باپ لے کر آ گئے تھے کیونکہ اس وقت ان کی سیاست یہ ہی ڈیمانڈ کرتی تھی۔جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ وہ جو ابھی بھی بیٹھ کر کہتے ہیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔ ابھی بھی کہتے ہیں کہ بات چیت سے مسئلہ حل کرو، وہ جو خبط ادھر تھا وہ خبط ابھی بھی ہے۔ تو کوئی ان سے پوچھے کہ آپ کو ان طالبان یا دہشتگردوں سے کیا محبت ہے۔ آپ کو ان کے گمراہ کن نظریات سے کیا محبت ہے۔ کس کے کہنے پر آپ پورے صوبے کو تو جھونک چکے ہیں اور اب پورے ملک کو اس آگ میں جھونک رہے ہیں، جس کا ایندھن آپ کے بچے بن رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں پر ترقی نہیں ہو رہی، کاروبار نہیں آ رہا۔ وہاں پر لوگ محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔

    Related Posts

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے راہزن ہلاک

    جلال پور پیر والا: موٹرسائیکل کو بچا تے ہوئے گاڑی  نہر میں جا گيری

    مقبول خبریں

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.