لاہور:پاکستانی شہری سے پسند کی شادی کرنے والی انڈین خاتون سربجیت کور (نور فاطمہ) کو سفری دستاویزات مکمل نہ ہونے کے باعث ابھی تک انڈیا روانہ نہیں کیا جا سکا اور اُن کی ملک بدری کا عمل تاحال تاخیر کا شکار ہے۔
پنجاب کے اقلیتی اُمور کے وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سربجیت کور کو واپس بھیجنے کے لیے پیر (پانچ جنوری) کے روز واہگہ بارڈر پہنچایا گیا تھا تاہم ان کے سفری کاغذات میں کچھ تکنیکی مسائل تھے۔جبکہ وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے بھی تاحال سربجیت کور کو انڈیا واپس بھجوائے جانے کا این او سی جاری نہیں کیا گیا
پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے تصدیق کی ہے کہ یاتری ویزے پر پاکستان آ کر شادی کرنے والی انڈین خاتون سربجیت کور اور ان کے پاکستانی شوہر ناصر حسین کو پیر کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
رمیش سنگھ اروڑہ کے مطابق ان کے پاکستانی شوہر کے خلاف ملکی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
سربجیت کور چار نومبر کو سکھ یاتریوں کے جتھے کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں اور ان کے ویزے کی معیاد 13 نومبر تک تھی تاہم وہ واپس انڈیا نہ گئیں اور شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی، جس کے بعد یہ مسلسل پاکستان میں ہی قیام پذیر تھیں۔
صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے بی بی سی کو بتایا کہ چار جنوری کو ننکانہ صاحب کے ایک گاؤں پہرے والی میں سربجیت کور اور ناصر حسین کی موجودگی کے بارے میں اطلاع ملنے پر خفیہ تحقیقاتی ادارے کی ٹیم نے فوری کارروائی کی۔
دوسری جانب سربجیت کور کے وکیل احمد حسن پاشا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سربجیت کور کو اُن کی مرضی سے انڈیا واپس بھجوایا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ فارنرز ایکٹ 1946 کے تحت سربجیت کور فی الحال پاکستان میں قیام کی مجاز نہیں تھیں اور اسی لیے انھیں واپس انڈیا روانہ کیا جا رہا ہے۔سربجیت کور اب انڈیا سے ’سپاؤز ویزہ‘ حاصل کریں گی جس کے بعد وہ دوبارہ پاکستان آ سکتی ہیں اور پاکستان آ کر یہاں مستقل رہائش کی درخواست دے سکتی ہیں۔

