Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آج انٹر نیٹ سروسز کی فراہمی بلاتعطل جاری رہے گی،بندش سے متعلقہ خبریں بے بنیاد ہیں، پی ٹی اے

      ارفع کریم کی 14ویں برسی: مریم نواز کا خراجِ تحسین، ‘نواز شریف آئی ٹی سٹی’ کے ذریعے ہر بیٹی کو ارفع بنانے کا عزم

      بھوکی شارک پھر متحرک،کل انٹرنیٹ بند؟

      دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی ہینلے فہرست جاری، پاکستان کانمبر کون سا؟

      سام سنگ گلیکسی ایس 26 کی لانچنگ، پری بکنگ کب سے شروع ہوگی؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      ایران پر امریکی حملہ آخری لمحات میں منسوخ

      قطر، العدید ائیر بیس سے سٹریٹو ٹینکر KC-135 طیاروں کی اڑان

      جب شکاری خود شکار بن گیا

       شام میں بڑی فوجی پیش قدمی: ترک اسپیشل فورسز اور شامی فوج کرد علاقوں کی جانب روانہ

      نو فلائی زون کے باوجود دو پراسرار چینی طیارے ایران کے ائیرپورٹ پر اتر گئے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    قانون شکنی یا فرض شناسی؟ ایک“ون وے“ نے سچ تک پہنچا دیا پنجاب پولیس کی وہ مثال جو کتابوں میں نہیں ملتی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے۔

    کسی بھی معاشرے میں انصاف کی بنیاد مضبوط تفتیش پر ہوتی ہے۔ تفتیش کا پہلا مرحلہ دراصل پورے کیس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ پہلی تفتیش کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کسی مریض کا آپریشن کوئی عطائی ڈاکٹر کر دے۔ مرض وہیں بگڑ جاتا ہے۔ بعد میں آپ اسے کسی مہنگے ہسپتال لے جائیں، انتہائی تجربہ کار اور ماہر ڈاکٹر سے علاج کروائیں، تب بھی مریض کی حالت سنبھلنا مشکل ہو جاتی ہے۔ یہی اصول فوجداری تفتیش پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر ابتدائی تفتیش غلط، لاپرواہ یا بدنیتی پر مبنی ہو تو بعد میں چاہے جتنی مرضی انکوائریاں، سپروائزری افسران یا اعلیٰ سطح کی تحقیقات کیوں نہ ہو جائیں، انصاف اکثر بحال نہیں ہو پاتا۔ تفتیشی افسر کی نیت، دلچسپی اور دیانت اگر زندہ ہو تو اندھا کیس بھی بول اٹھتا ہے، اور اگر یہی افسر لاپرواہی یا بدنیتی سے کام لے تو زندہ سچ دفن ہو جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایسے میں چاہے تفتیشی افسر کو بعد میں سزا ہی کیوں نہ مل جائے، انصاف کا قتل تو اسی لمحے ہو چکا ہوتا ہے جب کیس بگاڑا جاتا ہے اور فائدہ ہمیشہ ملزم کو پہنچتا ہے۔ پنجاب میں آج ہم ایک عجیب تضاد دیکھتے ہیں۔ عام شہری ٹریفک قوانین کی معمولی خلاف ورزی پر ہزاروں روپے جرمانہ ادا کرتا ہے، مگر ایک سرکاری پولیس وین ون وے چلتی ہے، لوگ غصے سے دیکھتے رہ جاتے ہیں، اور قانون کی گاڑی نہیں رکتی۔ بظاہر یہ قانون شکنی ہے، مگر کبھی کبھی یہی “غلط راستہ” کسی بڑی سچائی تک پہنچنے کا ذریعہ بن جاتا ہے بشرطیکہ نیت صاف ہو۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک لاوارث لاش نہر سے برآمد ہوئی۔ اگر معاملہ رسمی کارروائی تک محدود رہتا تو نعش دفنا دی جاتی، فائل بند ہو جاتی، اور پولیس بھی ملزم کی طرح آزاد ہو جاتی۔ مگر یہاں فرق ایک افسر نے پیدا کیا ڈی ایس پی چوہدری لیاقت علی نے۔ وہ افسر جو ایس ایس پی کرائم برانچ سے ریٹائر ہوئے اور اب اس دنیا میں نہیں، مگر ان کی تفتیش آج بھی زندہ مثال ہے۔

    2006 میں موضع مل مانگا منڈی لاہور کے قریب نہر میں تیرتی لاش پل کے نیچے جھاڑیوں میں پھنس گئی۔ اطلاع ملنے پر ٹی ایس آئی حسنین حیدر شاہ موقع پر پہنچے، نعش نکلوائی، کوائف نوٹ کیے۔ کچھ دیر بعد ڈی ایس پی سرکل چوہنگ، چوہدری لیاقت علی بھی موقع پر پہنچے۔ انہوں نے نعش کو سیدھا کیا، انگوٹھے باندھے، سفید کپڑا ڈالتے ہوئے کہا:
    “ہم سب نے بھی اس دنیا سے جانا ہے، میت کو اسلامی پروٹوکول کے مطابق عزت سے رکھیں”
    یہ جملہ محض ہمدردی نہیں تھا، یہ یاد دہانی تھی کہ تفتیش صرف فائل نہیں، انسان سے جڑی ذمہ داری ہے۔ جب تفتیشی افسر نے بتایا کہ وقوعہ کا مقام معلوم نہیں اور ملزم کا کوئی سراغ نہیں، تو چوہدری لیاقت علی نے ایک تجربہ کار افسر کی طرح وہ ہدایت دی جو کتابوں میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ نہر کے بائیں جانب مخالف سمت میں دو سے اڑھائی کلومیٹر پیدل جائیں، سراغ مل جائے گا۔ گرمی، تھکن اور مایوسی کے باوجود ٹیم نکلی، مگر ایک کلومیٹر بعد واپس اطلاع دی کہ کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ یہاں ایک عام افسر کیس بند کر دیتا، مگر چوہدری لیاقت علی نے ہار نہیں مانی۔ انہوں نے انسپکٹر رضوان منظور کو کہا۔ آپ بھی تھک جائیں گے، مگر اس کیس کا سراغ لگانا ضروری ہے۔ سرکاری گاڑی ون وے ہی لے جائیں، اور دیکھتے جائیں کہ خون کے قطرے کہاں ملتے ہیں۔

    ساڑھے تین کلومیٹر بعد نہر کے کنارے خون کے قطرے ملے۔ وہی قطرے ٹیم کو جائے واردات تک لے گئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ رات یہاں فائرنگ کی آواز سنی گئی تھی۔ مقدمہ درج ہوا، ملزم گرفتار ہوا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ مقتول وکیل تھا، قصور میں وکلا کا احتجاج شروع ہوا، اغوا برائے تاوان اور قتل کا مقدمہ درج ہوا، اور ملزم قصور پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ کیس اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ تفتیش کا دارومدار جدید ٹیکنالوجی پر نہیں، بلکہ افسر کے دماغ، تجربے اور ایمانداری پر ہوتا ہے۔ چوہدری لیاقت علی کی اصل میراث ان کے شاگرد ہیں۔ ڈی ایس پی رضوان منظور، جو آج سی سی ڈی میں تعینات ہیں، اور ڈی ایس پی حسنین حیدر شاہ، جو سول لائنز لاہور میں انویسٹی گیشن کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ وہ افسر جو سیکھنا چاہتے تھے، چوہدری لیاقت علی انہیں اپنے ساتھ رکھتے، طریقے سکھاتے، تاکہ علم کی روشنی آگے منتقل ہوتی رہے۔ افسوس یہ ہے کہ پنجاب پولیس میں غلام محمد کلیار اور احمد خان چڈھر جیسے ماہر تفتیشی افسران بھی گزرے، مگر نہ ان کے تجربے سے استفادہ کیا گیا، نہ تفتیشی کورسز میں ان کے لیکچر رکھے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس محکمے کو محنتی اور دیانت دار افسران سے نوازا، مگر ہم نے ان کی قدر نہ کی۔

    سوال یہ نہیں کہ پولیس کی گاڑی ون وے کیوں گئی، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری تفتیش درست سمت میں جا رہی ہے؟ کیونکہ جب تفتیش زندہ ہوتی ہے تو لاشیں بولتی ہیں، اور جب تفتیش مر جائے تو انصاف کا جنازہ خاموشی سے اٹھا لیا جاتا ہے۔

    Related Posts

    غفور انجم کا اچانک تبادلہ، مرزا ساجد بیگ اڈیالہ جیل کے نئے سپرنٹنڈنٹ مقرر، نوٹی فیکیشن جاری کردیا گیا

    امریکا پاکستان کے امیگرنٹ ویزے جلد بحال کرے گا، حکام سے رابطے میں ہیں، دفتر خارجہ

    متنازع ٹویٹ کیس، ایڈووکیٹس ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ، گرفتارکرکے پیش کرنیکا حکم

    مقبول خبریں

    متنازع ٹویٹ کیس، ایڈووکیٹس ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ، گرفتارکرکے پیش کرنیکا حکم

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اے ایس پیز کے لیے پلاٹس، بیجنگ میں تربیت اور تنخواہوں میں اضافے کا اعلان

    ملتان سلطانز کی نیلامی اور علی ترین کا ٹویٹ سوشل میڈیا پر وائرل

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی دوسری شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل

    2026 کرکٹ شائقین کیلئے بڑا سال، تین عالمی کپ، انڈر 19 ورلڈ کپ 15 جنوری سے کھیلا جائے گا

    بلاگ

    اربوں کے فنڈز، پھر بھی خستہ حال گاڑیاں ،، مسئلہ پیسے کا نہیں، نظام کا ہے ٹریکر لگیں تو حقیقت سامنے آئے

    طاقت کے اصول اور جنگل کا قانون۔۔۔۔۔۔۔ سپیڈ بریکر۔۔۔ از میاں حبیب

    عہدوں کی شادیاں، ون ڈش کی خلاف وزری اور سلامی اکٹھی کرنے کا مشن۔۔۔ کالم نگار ملک محمد سلمان

    ویٹو پاور کے سائے میں انصاف کی پکار: وینزویلا کے صدر کی رہائی کا مطالبہ، مگر سلامتی کونسل عملی کارروائی سے قاصر

    بے زبانوں پر ظلم،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ،چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نوٹس لیں

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.