Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آج انٹر نیٹ سروسز کی فراہمی بلاتعطل جاری رہے گی،بندش سے متعلقہ خبریں بے بنیاد ہیں، پی ٹی اے

      ارفع کریم کی 14ویں برسی: مریم نواز کا خراجِ تحسین، ‘نواز شریف آئی ٹی سٹی’ کے ذریعے ہر بیٹی کو ارفع بنانے کا عزم

      بھوکی شارک پھر متحرک،کل انٹرنیٹ بند؟

      دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی ہینلے فہرست جاری، پاکستان کانمبر کون سا؟

      سام سنگ گلیکسی ایس 26 کی لانچنگ، پری بکنگ کب سے شروع ہوگی؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      “فٹنس“ ہوتو ایسی ، سلمان خان کی سوئمنگ پول پر “بیک فلپ“ سوشل میڈیا پروائرل

      داڑھی مونچھ کا صفایا، اداکارسلمان خان کی فریش لک

      وزیر دفاع خواجہ آصف کی ہئیر اسٹائلسٹ کے سیلون پرآمد اور سیلفیاں

      آسٹریلیا میں ریت کا طوفان

      روسی صدر پوٹن کا نئی دہلی میں پرتپاک استقبال، راشٹر پتی بھون میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، ویڈیو

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    “وزیرِ اعلیٰ کے پی کا دورۂ پنجاب اور مس ہینڈلنگ“ نامور کالمسٹ، ایڈیٹر میاں حبیب کاتجزیہ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:میاں حبیب
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    سال کے آخری دنوں میں کئی قابلِ ذکر واقعات رونما ہوئے، لیکن دو واقعات غیر معمولی اہمیت کے حامل رہے۔ ایک طرف وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے قبضہ گروپوں کے خلاف آرڈیننس کے ذریعے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ساتھ ملا کر تیز رفتار فیصلے کیے گئے، جن کے نتیجے میں گھنٹوں میں جائیدادوں کے فیصلے ہوئے اور عوامی سطح پر ان اقدامات کو سراہا گیا۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس کی جانب سے ان فیصلوں پر عمل درآمد روکتے ہوئے پراپرٹی اونرشپ قانون کو معطل کیا گیا اور قبضے واپس کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
    اس فیصلے پر وکلا برادری خوش دکھائی دیتی ہے، تاہم عوامی سطح پر مختلف تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ سیاسی پنڈت اس فیصلے کے الگ الگ معانی اخذ کر رہے ہیں؛ کوئی اسے کسی اشارے سے تعبیر کر رہا ہے تو کوئی پسِ پردہ حکمتِ عملیوں کو تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ ایک عمومی تاثر یہ بھی تھا کہ حالیہ دنوں میں عدالتیں حکومتی معاملات میں مداخلت سے گریز کر رہی ہیں اور اکثر فیصلے حکومت کے حق میں آتے ہیں، مگر اس کیس میں پنجاب حکومت کو واضح طور پر ایک بڑا سیٹ بیک ہوا، جبکہ عدالتی ساکھ مضبوط ہوئی ہے۔
    پنجاب حکومت اس فیصلے کا توڑ تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اس معاملے پر خاصی لے دے ہوئی اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے اس فیصلے کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ صوبے بھر میں اس قانون پر ہر سطح پر بحث جاری ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں—لوگ حالات و واقعات کو جوڑ کر مختلف تھیوریاں بنا رہے ہیں، جن کے اثرات کو مکمل طور پر زائل کرنا ممکن نہیں۔ اسی تناظر میں وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے تحریکِ انصاف کو مذاکرات کی دعوت، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کا دورۂ لاہور—ان سب کو باہم جوڑ کر کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت تحریکِ انصاف سے مذاکرات کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟ سہیل خان آفریدی کے دورے کو بھی ایک اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کسی سطح سے اجازت لے کر آئے ہیں اور اس دورے کا مقصد پنجاب حکومت کو خبردار کرنا ہے کہ حالات کسی بھی وقت بدل سکتے ہیں۔
    کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ تحریکِ انصاف نے اسلام آباد پر چڑھائی کی بجائے پنجاب کو احتجاج کا مرکز بنانے کی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے۔ ماضی قریب میں پنجاب میں تحریکِ انصاف کی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں تھیں اور پنجاب حکومت کو مکمل فری ہینڈ حاصل تھا۔ اتنا فری ہینڈ جو شاید کسی اور صوبائی حکومت کو میسر نہ تھا۔ اگر تحریکِ انصاف پنجاب کو احتجاجی سیاست کا مرکز بنا لیتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ دباؤ پنجاب حکومت پر ہی پڑے گا۔
    ابھی تک پنجاب حکومت نے تحریکِ انصاف کو کھل کر سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دی۔ بعض لوگ سہیل خان آفریدی کے دورے کو سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے دورۂ لاہور سے مماثل قرار دے رہے ہیں، مگر واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور باہمی مفاہمت کے تحت لاہور آئے تھے اور ان کی سرگرمیاں محدود تھیں۔ اس کے برعکس سہیل خان آفریدی نے تحریکِ انصاف کے ورکرز کو متحرک کرنے کی واضح کوشش کی۔ وہ پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر گئے، لبرٹی مارکیٹ کا دورہ کیا، جیل میں قید رہنماؤں سے ملاقات کی کوشش کی (اگرچہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی)، اور پنجاب اسمبلی بھی گئے۔
    ان سرگرمیوں کا مقصد تین نکات پر مبنی تھا:
    اوّل، پارٹی رہنماؤں کو یہ پیغام دینا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ دوم، مایوس سیاسی ورکرز کو متحرک کرنا۔ سوم، خوف کی فضا کو ختم کرنا۔ پنجاب حکومت کو چاہیے تھا کہ یا تو اس دورے کی اجازت ہی نہ دیتی، یا پھر سیاسی روایات کے مطابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب یا اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے انہیں مدعو کیا جاتا اور محدود مگر باعزت سرگرمیوں کی اجازت دی جاتی۔ سہیل خان آفریدی کے ساتھ جو مس ہینڈلنگ ہوئی، اس کا تاثر مثبت نہیں گیا۔ پنجاب اسمبلی کے اندر انہیں روکنا مناسب نہیں تھا۔ بہتر یہ تھا کہ ان کے محدود ساتھیوں کے ساتھ باوقار انداز میں اسمبلی کا دورہ کروایا جاتا۔
    اسی طرح بعض صحافیوں کی جانب سے کیے گئے غیر اخلاقی سوالات بھی قابلِ افسوس تھے، جن سے واضح ہوتا تھا کہ یہ سوالات پلانٹڈ تھے اور ان کا مقصد محض تضحیک تھا۔ ایسے سوالات سنجیدہ صحافت کے شایانِ شان نہیں۔ سہیل آفریدی کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ نہ لاہور کی روایت ہے اور نہ ہی پنجاب کے مزاج کے مطابق۔ عوامی ردِعمل بھی اس طرزِ عمل کے حق میں نہیں آیا۔ تحریکِ انصاف اسے اسٹریٹ موومنٹ قرار دے رہی ہے اور اعلان کیا جا چکا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے بعد سندھ اور کراچی جائیں گے، اور ممکنہ طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ تحریکِ انصاف ملک گیر سطح پر متحرک ہونے جا رہی ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ان سرگرمیوں کو محدود نہ کیا گیا تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریکِ انصاف کو کہیں نہ کہیں سے کچھ ریلیف مل گیا ہے؟ اس ریلیف کا مقصد کیا ہے، اور مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ سب وقت ہی بتائے گا۔ تاہم ایک بات طے ہے۔ سیاسی منظرنامے میں اب کچھ نیا ہونے جا رہا ہے۔

    Related Posts

    امریکا پاکستان کے امیگرنٹ ویزے جلد بحال کرے گا، حکام سے رابطے میں ہیں، دفتر خارجہ

    متنازع ٹویٹ کیس، ایڈووکیٹس ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ، گرفتارکرکے پیش کرنیکا حکم

    معروف اینکر اقرار الحسن نے اپنی سیاسی جماعت کے نام کا اعلان کردیا، پرچم کی رونمائی

    مقبول خبریں

    متنازع ٹویٹ کیس، ایڈووکیٹس ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ، گرفتارکرکے پیش کرنیکا حکم

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اے ایس پیز کے لیے پلاٹس، بیجنگ میں تربیت اور تنخواہوں میں اضافے کا اعلان

    ملتان سلطانز کی نیلامی اور علی ترین کا ٹویٹ سوشل میڈیا پر وائرل

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی دوسری شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل

    2026 کرکٹ شائقین کیلئے بڑا سال، تین عالمی کپ، انڈر 19 ورلڈ کپ 15 جنوری سے کھیلا جائے گا

    بلاگ

    اربوں کے فنڈز، پھر بھی خستہ حال گاڑیاں ،، مسئلہ پیسے کا نہیں، نظام کا ہے ٹریکر لگیں تو حقیقت سامنے آئے

    طاقت کے اصول اور جنگل کا قانون۔۔۔۔۔۔۔ سپیڈ بریکر۔۔۔ از میاں حبیب

    عہدوں کی شادیاں، ون ڈش کی خلاف وزری اور سلامی اکٹھی کرنے کا مشن۔۔۔ کالم نگار ملک محمد سلمان

    ویٹو پاور کے سائے میں انصاف کی پکار: وینزویلا کے صدر کی رہائی کا مطالبہ، مگر سلامتی کونسل عملی کارروائی سے قاصر

    بے زبانوں پر ظلم،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ،چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نوٹس لیں

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.