Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      برصغیر میں ہوابازی کی تاریخ کا سنہری دن: کراچی اور ممبئی کے درمیان پہلی پرواز کو 94 سال بیت گئے

      جرمن پولیس کی کارروائی: 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنے کے الزام میں روبوٹ تحویل میں

      ایپل کا نیا ہوم پوڈ منی 2 متعارف، سری اے آئی اور جدید فیچرز شامل

      مصنوعی ذہانت امریکا میں ایک کروڑ 10 لاکھ ملازمتیں کھا جائے گی، میکنسی رپورٹ جاری

      آواز سے دوگنی رفتار والا طیارہ، سفر کا وقت 70 فیصد تک کم کرنے کا منصوبہ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    بلوچستان: فورسز پرحملوں میں ملوث زخمی دہشت گردوں کے سہولت کار ڈاکٹرز بے نقاب، سہولت کار کون افسر ہیں تحقیقات شروع ہسپتال دوبارہ سیل

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    رحیم یار خان (رپورٹ:اسد مرزا) رحیم یار خان کے علاقے صادق آباد میں واقع ایک نجی طبی ادارہ ملک دشمن سرگرمیوں کے ایک سنگین نیٹ ورک کا مرکز بننے کا انکشاف ہوا ہے۔ صادق آباد پولیس اسٹیشن کی ایف آئی آر نمبر 1662/25 کے مطابق بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث دہشت گردوں کے لیے صادق آباد کا رضیہ سرجیکل ہسپتال خفیہ علاج گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا، جہاں زخمی دہشت گردوں کا اس انداز میں علاج اور آپریشن کیا جاتا رہا کہ نہ تو ان کا نام اسپتال کے ریکارڈ میں درج کیا جاتا اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے کو اطلاع دی جاتی۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کے ساتھ مقابلوں میں زخمی ہونے والے دہشت گردوں کو اسپتال کے اندر مخصوص خفیہ کمروں میں منتقل کیا جاتا، جہاں سرجری اور علاج مکمل ہونے کے بعد انہیں بحفاظت فرار کرا دیا جاتا۔ اسی سنگین انکشاف پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور محکمہ صحت نے ہسپتال کو دوبارہ سیل کر دیا ہے، جبکہ ملوث ڈاکٹرز کے خلاف درج مقدمے میں مزید سنگین دفعات شامل کرنے کی تیاری جاری ہے۔

    تحقیقات کے مطابق ہسپتال کے مالک ڈاکٹر راؤ ندیم اختر، سرجن ڈاکٹر عثمان اور ریکارڈ کیپر محمد عقاس نہ صرف دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں بلکہ ان کے مبینہ سہولت کار پنجاب میں اہم سرکاری عہدوں پر بھی تعینات ہیں، جن کے کردار کی چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں پولیس پر دباؤ ڈال کر مقدمے میں معمولی دفعات شامل کروائی گئیں، تاہم اب ذمہ داران کا تعین کر کے دہشت گردوں کی سہولت کاری کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ بلوچستان کی ایک کالعدم تنظیم کا کمانڈر فاروق، جو سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہوا، علاج کی غرض سے رضیہ سرجیکل ہسپتال میں موجود ہے۔ اطلاع ملنے پر سب انسپکٹر زاہد عباس پولیس ٹیم کے ہمراہ ہسپتال پہنچے، جہاں ہسپتال کے مالک ڈاکٹر راؤ ندیم اختر نے مریض کی شناخت سے لاعلمی ظاہر کی۔ جب مریض کا ریکارڈ طلب کیا گیا تو رجسٹر میں اس کے نام کی کوئی انٹری موجود نہ تھی۔ مزید تفتیش پر معلوم ہوا کہ ڈاکٹر عثمان ایسے خفیہ آپریشنز میں ملوث رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے مزید پوچھ گچھ کے دوران ڈاکٹر راؤ ندیم، ڈاکٹر عثمان اور ریکارڈ کیپر محمد عقاس سمیت 5 سے 6 نامعلوم افراد نے پولیس ٹیم سے بدتمیزی کی، انہیں دھکے دے کر اسپتال سے باہر نکالنے کی کوشش کی اور سرکاری فرائض میں مداخلت کی۔ پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے یہ جانتے ہوئے کہ زیر علاج شخص ایک دہشت گرد کمانڈر ہے، اس کا علاج کر کے اسے پناہ دی اور فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔ اس واقعے پر 28 اکتوبر کو تھانہ صادق آباد میں مقدمہ درج کیا گیا، تاہم اس سے قبل بااثر عناصر نے معاملہ “مینج” کر لیا گیا۔ جس کے باعث انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل نہ ہو سکیں۔ محکمہ صحت نے ہسپتال سیل کر دیا تھا، مگر کمزور تفتیش کے باعث عدالت نے ملزمان کو رہا کر دیا اور اگلے ہی روز بااثر ڈاکٹرز نے ہسپتال ڈی سیل کروا لیا گیا۔ بعد ازاں جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دوبارہ گہرائی سے تحقیقات کیں تو دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے پیچھے موجود سہولت کار بھی بے نقاب ہونا شروع ہو گئے۔ نتیجتاً دسمبر میں رضیہ سرجیکل ہسپتال کو ایک بار پھر سیل کر دیا گیا اور معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جاری تحقیقات میں کئی بڑے اور بااثر نام سامنے آ رہے ہیں، جنہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد آئندہ رپورٹ میں منظرِ عام پر لایا جائے گا۔ یہ کیس نہ صرف ایک اسپتال بلکہ پورے نظام میں موجود خاموش سہولت کاری پر سنگین سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

    Related Posts

    ڈپٹی کمشنر ٹنڈو الہیار کا مختلف علاقوں میں آر او پلانٹس کا دورہ

    ڈسکہ میں ٹریفک حادثہ، دو کمسن بہنیں جاں بحق

    چونڈہ روڈ پر ٹریفک حادثہ، 15 سالہ لڑکا جاں بحق

    مقبول خبریں

    یمن: صدارتی محل پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحق

    ڈسکہ میں ٹریفک حادثہ، دو کمسن بہنیں جاں بحق

    چونڈہ روڈ پر ٹریفک حادثہ، 15 سالہ لڑکا جاں بحق

    صوبائی مشیر صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کا دورہ، زخمیوں کی عیادت اور طبی سہولیات کا جائزہ

    گورنر خیبرپختونخوا کا دیر کالونی سانحہ کے شہداء کے بچوں کیلئے 10، 10 لاکھ اور زخمیوں کیلئے 2 لاکھ روپے کا اعلان

    بلاگ

    ہائی ویز پر تیز ایل ای ڈی لائٹس؛ روشنی یا موت کا سامان؟

    ہماری خاموشی اور معاشرے میں دن بدن پروان چڑھتی ہوئی نا انصافی

    ​”ناکامی کا ذمہ دار کون۔۔۔؟” میاں حبیب کا کالم

    آئین کی بالادستی، سیاسی رواداری اور مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں

    انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز: ادب، قلم اور فکری شعور کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.