رحیم یار خان (رپورٹ:اسد مرزا) رحیم یار خان کے علاقے صادق آباد میں واقع ایک نجی طبی ادارہ ملک دشمن سرگرمیوں کے ایک سنگین نیٹ ورک کا مرکز بننے کا انکشاف ہوا ہے۔ صادق آباد پولیس اسٹیشن کی ایف آئی آر نمبر 1662/25 کے مطابق بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث دہشت گردوں کے لیے صادق آباد کا رضیہ سرجیکل ہسپتال خفیہ علاج گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا، جہاں زخمی دہشت گردوں کا اس انداز میں علاج اور آپریشن کیا جاتا رہا کہ نہ تو ان کا نام اسپتال کے ریکارڈ میں درج کیا جاتا اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے کو اطلاع دی جاتی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کے ساتھ مقابلوں میں زخمی ہونے والے دہشت گردوں کو اسپتال کے اندر مخصوص خفیہ کمروں میں منتقل کیا جاتا، جہاں سرجری اور علاج مکمل ہونے کے بعد انہیں بحفاظت فرار کرا دیا جاتا۔ اسی سنگین انکشاف پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور محکمہ صحت نے ہسپتال کو دوبارہ سیل کر دیا ہے، جبکہ ملوث ڈاکٹرز کے خلاف درج مقدمے میں مزید سنگین دفعات شامل کرنے کی تیاری جاری ہے۔
تحقیقات کے مطابق ہسپتال کے مالک ڈاکٹر راؤ ندیم اختر، سرجن ڈاکٹر عثمان اور ریکارڈ کیپر محمد عقاس نہ صرف دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں بلکہ ان کے مبینہ سہولت کار پنجاب میں اہم سرکاری عہدوں پر بھی تعینات ہیں، جن کے کردار کی چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں پولیس پر دباؤ ڈال کر مقدمے میں معمولی دفعات شامل کروائی گئیں، تاہم اب ذمہ داران کا تعین کر کے دہشت گردوں کی سہولت کاری کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ بلوچستان کی ایک کالعدم تنظیم کا کمانڈر فاروق، جو سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہوا، علاج کی غرض سے رضیہ سرجیکل ہسپتال میں موجود ہے۔ اطلاع ملنے پر سب انسپکٹر زاہد عباس پولیس ٹیم کے ہمراہ ہسپتال پہنچے، جہاں ہسپتال کے مالک ڈاکٹر راؤ ندیم اختر نے مریض کی شناخت سے لاعلمی ظاہر کی۔ جب مریض کا ریکارڈ طلب کیا گیا تو رجسٹر میں اس کے نام کی کوئی انٹری موجود نہ تھی۔ مزید تفتیش پر معلوم ہوا کہ ڈاکٹر عثمان ایسے خفیہ آپریشنز میں ملوث رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے مزید پوچھ گچھ کے دوران ڈاکٹر راؤ ندیم، ڈاکٹر عثمان اور ریکارڈ کیپر محمد عقاس سمیت 5 سے 6 نامعلوم افراد نے پولیس ٹیم سے بدتمیزی کی، انہیں دھکے دے کر اسپتال سے باہر نکالنے کی کوشش کی اور سرکاری فرائض میں مداخلت کی۔ پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے یہ جانتے ہوئے کہ زیر علاج شخص ایک دہشت گرد کمانڈر ہے، اس کا علاج کر کے اسے پناہ دی اور فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔ اس واقعے پر 28 اکتوبر کو تھانہ صادق آباد میں مقدمہ درج کیا گیا، تاہم اس سے قبل بااثر عناصر نے معاملہ “مینج” کر لیا گیا۔ جس کے باعث انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل نہ ہو سکیں۔ محکمہ صحت نے ہسپتال سیل کر دیا تھا، مگر کمزور تفتیش کے باعث عدالت نے ملزمان کو رہا کر دیا اور اگلے ہی روز بااثر ڈاکٹرز نے ہسپتال ڈی سیل کروا لیا گیا۔ بعد ازاں جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دوبارہ گہرائی سے تحقیقات کیں تو دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے پیچھے موجود سہولت کار بھی بے نقاب ہونا شروع ہو گئے۔ نتیجتاً دسمبر میں رضیہ سرجیکل ہسپتال کو ایک بار پھر سیل کر دیا گیا اور معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جاری تحقیقات میں کئی بڑے اور بااثر نام سامنے آ رہے ہیں، جنہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد آئندہ رپورٹ میں منظرِ عام پر لایا جائے گا۔ یہ کیس نہ صرف ایک اسپتال بلکہ پورے نظام میں موجود خاموش سہولت کاری پر سنگین سوالیہ نشان بن چکا ہے۔


